1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لیڈی پولیس افسر نے مریم نواز کو کیوں سیلوٹ کیا ؟

سوشل میڈیا پر کئی افراد کی جانب سے مریم نواز شریف کو سیلوٹ کرنے والی اس پی اسپیشل برانچ کی افسر ارسلا سلیم کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کئی افراد اس نوجوان افسر کے حق میں بھی بیانات دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز جب پاکستانی وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز شریف پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے جوڈیشل اکیڈمی پہنچیں تو ارسلا سلیم نے انہیں سیلوٹ کیا۔ ارسلا کی جانب سے مریم نواز شریف کو سیلوٹ کیے جانے کو تحریک انصاف کے سربراہ  عمران خان نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا، ''ناقابل یقین، ایک پرائیویٹ شہری مریم کو سرکاری پروٹوکول دیا گیا پولیس اسے سیلوٹ کر رہی ہے جب کہ وہ ایک مجرمانہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہوئی ہیں۔‘‘

 پاکستان کی ایک صحافی مونا خان نے سوشل میڈیا پر نوجوان افسر کو تنقید بنائے جانے پر برہم ہوتے ہوئے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر گود میں لیپ ٹیپ یا سمارٹ فون سے سوشل میڈیا پر کسی کی غلطی پر بغیر اسکا موقف سُنے سزا سُنا دینا ہماری قوم کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ‘‘

سوشل میڈیا صارف احمد بلال خالد نے اس حوالے سے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’ غلطی یہ ہے کہ ایک پولیس افسر ایک ایسی سویلین خاتون کو سیلوٹ کر رہی ہے، جس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔‘‘

فیس بک صارف ارشد مشتاق سید نے اس حوالے سے لکھا،’’ مسئلہ یہ نہیں کہ ایک افسر نے ایک شہری کو سیلوٹ کیوں کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ایک ایسے شخص کو سیلوٹ کیا جس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘

ایک سابق فوجی افسر سعاد محمود نے اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے، ’’میرے علم کے مطابق کسی خاتون کو سیلوٹ کرنے میں کوئی عیب نہیں۔ سیلوٹ یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں کی طرف سے سلام کرنے کا ایک طریقہ ہے۔‘‘

DW.COM