1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ پر پابندی، ایمریٹس کی خصوصی رعایت

امریکی اور برطانوی حکومتوں نے حال ہی میں لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کے ساتھ ہوائی جہاز کے اندر داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان دونوں اور دوسرے الیکٹرانک آلات کو بڑے سامان کے ساتھ جمع کرانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

امریکی حکومت نے ایک اسٹینڈرڈ اسمارٹ فون سے بڑے سائز کا کوئی الیکٹرانک آلہ یا آلات ہوائی جہاز کے اندر لانے کو خلافِ ضابطہ قرار دے دیا ہے۔ تاہم ایسے ڈیجیٹل آلات کو بڑے سامان میں ڈال کر چیک اِن کرایا جا سکتا ہے۔ دبئی سے دنیا بھر کے لیے پروازیں روانہ کرنے والی ہوائی کمپنی ایمریٹس نے رواں برس چودہ اکتوبر تک اِس پابندی کا نفاذ کر دیا ہے۔

ایمریٹس کے مطابق یہ پابندی دبئی ڈیوٹی فری شاپس پر فروخت کیے جانے والے سامان پر بھی عائد کر دی گئی ہے۔ اس ہوائی کمپنی نے اپنے مسافروں کے لیے خصوصی سہولت یہ فراہم کی ہے کہ جن کے پاس لیپ ٹاپ یا دوسرے ڈیجیٹل آلات ہوں گے، اُن کو احتیاط کے ساتھ پیک کر کے جہاز کے سامان میں جمع کروا دیا جائے گا اور یہ مسافروں کو منزل پر پہنچ کر سامان کی بیلٹ پر مل سکے گا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ ہر روز دبئی سے امریکا کے مختلف شہروں کے لیے اٹھارہ پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔ ایسی سہولت فراہم کرنے کی وجہ ایمریٹس کی جانب سے اُس کے ہوائی جہازوں پر سفر کرنے والے مسافروں کو ایک طرح سے خوشی اور راحت فراہم کرنا ہے۔ مسافر دبئی ڈیوٹی فری شاپس سے روزانہ بڑی تعداد میں الیکٹرانک آلات خریدتے تھے اور اس نئی پابندی کے بعد دبئی کو صرف دو روز کے دوران ایک ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ لیکن اب ایمریٹس مسافروں کے اسمارٹ فون سے بڑے ڈیجیٹل آلات کو ہوائی جہاز میں داخل ہوتے وقت محفوظ انداز میں پیک کرے گی۔

Emirates - Airbus A380 (Emirates Airline)

ایمریٹس مسافروں کے اسمارٹ فون سے بڑے ڈیجیٹل آلات کو ہوائی جہاز میں داخل ہوتے وقت محفوظ انداز میں پیک کرے گی۔

امریکی پابندی سےآٹھ ملکوں کی نو ہوائی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ان ملکوں میں ترکی، مراکش، اردن، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب اور کویت شامل ہیں۔ برطانیہ نے بھی ایسی ہی پابندی کا اطلاق آج ہفتہ پچیس مارچ سے کر دیا ہے۔ برطانیہ کی جانب سے عائد پابندی میں مصر، ترکی، اردن، سعودی عرب اور لبنان سے آنے تمام ہوائی کمپنیوں کے مسافر اسمارٹ فون سے بڑے ڈیجیٹل آلات ہوائی جہاز میں لے کر نہیں ہو سکتے۔

متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی کی حکومت نے اپنے بین الاقوامی ہولائی اڈے پر امریکی کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن کی تمام سہولیات فراہم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس طرح ابو ظہبی سے امریکا کے لیے  جانے والی پروازیں امریکی ہوائی اڈوں پر داخلی پرواز کے طور پر اترتی ہیں اور مسافروں کو دوبارہ امیگریشن کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہ سہولت ابوظہبی کے ٹرمینل تھری پر فراہم کی کی گئی ہے۔ مشرقی وسطیٰ میں یہ اپنی نوعیت کی منفرد سہولت ہے جو صرف ایک ملک یعنی امریکا نے ہی فراہم کی ہے۔

بعض مسلمان اکثریتی ملکوں نے اس پابندی پر تنقید کی ہے لیکن امریکا اور برطانیہ کے خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ مسافر اپنے لیپ ٹاپ یا کسی بڑے ڈیجیٹل آلے میں آتش گیر مادہ کو نصب کر سکتے ہیں۔