1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

لیجنڈری شاطر کیسپیروف ایک مرتبہ پھر شطرنج کی بساط پر

روس سے تعلق رکھنے والے گیری کیسپیروف کو شطرنج کھیل کا ایک لیجنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ شطرنج کے ابھرتے کھلاڑی اُن کی محبت اور عقیدت میں مغلوب رہتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر کیسپیروف شطرنج کی بساط پر آن بیٹھے ہیں۔

گیری کیسپیروف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے سن 1985 میں محض بائیس برس کی عمر میں شطرنج کی عالمی چیمپئن شپ جیتی تھی اور اس طرح وہ کم عمر ترین عالمی چیمپئن بنے تھے۔  چون برس کے کیپیروف نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر شطرنج کی بساط پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وہ اپنے ہم وطن سیرگئی کارجاکن کے ساتھ شطرنج کے میچ کھیلیں گے۔ یہ مقابلے سِنک فیلڈ کپ کا حصہ ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ کیسپیروف کی ریٹائرمنٹ کے بعد شطرنج کھیل میں کئی تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اس میں تیز رفتار مختصر دورانیہ کی شطرنج ’بلٹز‘ بھی شامل ہے۔ کیسپیروف نے بلٹز مقابلوں میں بھی شرکت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جاپانی شطرنج کا انمول ہیرا، چودہ سالہ گرینڈ ماسٹر

میگنس کارلسن، شطرنج کا نیا بادشاہ

وشواناتھن آنند کی چالیں چل گئیں

سِنک فیلڈ کپ شطرنج کے ورلڈ پروگرام کا ایک اہم ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ کیسپیروف جن مقابلوں میں شریک ہو رہے ہیں، وہ امریکی ریاست میسوری کے شہر سینٹ لوئیس میں منعقد ہوں گے۔

کل پیر چودہ اگست سے لے کر اگلے ہفتے تک شطرنج کے خصوصی مقابلوں کے اہتمام کیا گیا ہے۔ سینٹ لوئیس میں کھیلے جانے والے مقابلوں کے دوران ناروے سے تعلق رکھنے والے عالمی نمبر ایک میگنس کارلسن موجود نہیں ہوں گے۔

Symbolbild Intelligenz (Imago/Westend61)

سِنک فیلڈ کپ شطرنج کے ورلڈ پروگرام کا ایک اہم ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے

روسی کھلاڑی گیری کیسپیروف سابقہ سویت یونین کی جمہوریہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پیدا ہوئے تھے اور شطرنج پر اُن کی غیرمعمولی مہارت کی وجہ سے وہ ’ باکو کا حملہ آور‘ قرار دیے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے ہم وطن اناطولی کارپوف کے ساتھ کئی طویل میچ کھیلے تھے۔ کارپوف کو بھی شطرنج میں ایک لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے۔

گیری کیسپیروف نے شطرنج کھیل کو خیرباد کہنے کے بعد عملی سیاست کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی کرتے ہیں۔ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی میں پیش پیش رہے ہیں۔ کاروبار اور عملی سیاست کی وجہ سے وہ کئی برسوں تک شطرنج پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر رہے تھے۔

سینٹ لوئیس کے مقابلے اُن کی یادداشت کے ساتھ ساتھ مہارت کا بھی امتحان خیال کیا گیا ہے۔ شطرنج کے کئی گرینڈ ماسٹرز ان مقابلوں کو دیکھنے اور حصہ لینے کے لیے امریکا پہنچ چکے ہیں۔

DW.COM