1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لیبیا کے کوسٹ گارڈز کی کارروائیاں، سینکڑوں تارکین روک لیے گئے

لیبیا کے کوسٹ گارڈز نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن کو بحیرہء روم عبور کر کے یورپی یونین پہنچنے کی کوشش سے روکا ہے۔

لیبیا کے ایک حکومتی ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوسٹ گارڈز نے مغربی شہر صبراتہ سے بحیرہء روم عبور کر کے اٹلی کی جانب سفر کرنے کی کوشش کے دوران روکا ہے۔

حکومتی ترجمان ایوب قاسم نے بتایا کہ صرف جمعرات کو صبراتہ شہر سے چار کشتیوں کے ذریعے بحیرہء روم عبور کرنے کے لیے نکلنے والے 431 تارکین وطن کو روکا گیا، جب کہ جنوری کی 27 تاریخ سے اب تک مجموعی طور پر یہ تعداد 1131 بنتی ہے۔

قاسم نے بتایا کہ ان غیرقانونی تارکین وطن میں سے زیادہ تر کا تعلق زیریں صحارا کے خطے کے افریقی ممالک سے ہے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ قاسم کا تاہم کہنا تھا کہ روکے جانے والے تارکین وطن میں لیبیا، شام، فلسطین اور تیونس کے شہری بھی شامل ہیں۔ قاسم کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران انسانوں کے اسمگلروں نے کوسٹ گارڈز کو روکنے کی کوشش بھی کی۔

’’انسانوں کے اسمگلروں نے کوشش کی کہ کوسٹ گارڈز پر فائرنگ کر کے ان گرفتاریوں کو روکا جائے، مگر کوسٹ گارڈز نے جوابی فائرنگ کی اور ان اسمگلروں کو مجبور کیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔‘‘

Libyen Tripolis Gerettete Migranten (Reuters/H. Amara)

لیبیا میں تارکین وطن کی حالت دگرگوں ہے

غیرقانونی طور پر یورپی یونین پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی بڑی تعداد کا تعلق لیبیا کے ذریعے بحیرہء روم عبور کر کے اطالوی جزائر کا رخ کرنے والوں پر مشتمل ہے۔ گزشتہ برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور بلقان کی ریاستوں کی جانب سے اپنی قومی سرحدیں بند کر دینے کے بعد یہی وہ راستہ ہے، جہاں سے اب بھی ہزاروں تارکین وطن یورپ پہنچ رہے ہیں۔

انسانوں کے اسمگلر عموماﹰ ان تارکین وطن کو شکستہ کشتیوں پر سوار کرا کے بحیرہء روم کی موجوں کے سپرد کر دیتے ہیں اور گزشتہ برس ایسی ہی کوششوں کے نتیجے میں ساڑھے چار ہزار سے زائد تارکین وطن لقمہ اجل بن گئے تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس کی بڑی وجہ لیبیا میں کسی مؤثر حکومت کا نہ ہونا ہے، جس کی بنا پر یہ اسمگلر بغیر کسی خوف کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کی جمعے کے روز ہونے والی ایک سربراہی کانفرنس میں بھی اسی موضوع پر توجہ مرکوز رہی تھی۔ اس کانفرنس میں یورپی رہنماؤں نے لیبیا کو سرمایے اور دیگر صورتوں میں مدد کی پیش کش کی تھی، تاکہ وہاں تارکین وطن کی حالت زار کو بہتر بنایا جا سکے۔