1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے کئی شہر باغیوں کے قبضے میں، تنازعے کے پر امن حل کا امکان

شمالی افریقی ملک لیبیا میں حکومت مخالف باغیوں نے آج اتوار کو مزید پیش قدمی کرتے ہوئے اب تک معمر قذافی کی حامی فوجوں کے زیر قبضہ متعدد شہروں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

default

باغی مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں

اس وقت یہ باغی مغرب کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں اب وہ قذافی کے آبائی شہر سرت کو اپنے کنٹرول میں لینے کے خواہش مند ہیں۔

طرابلس اور قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ حکومت مخالف باغی اب تک تیل کی صنعت کے لیے انتہائی اہم بندرگاہی شہر بریقہ کے بعد راس لانُوف اور بن جواد کے شہروں پر بھی کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔

عرب ٹیلی وژن چینل الجزیرہ نے بتایا ہے کہ باغیوں نے عقائلہ کے شہر کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد اب قذافی کے آبائی شہر سرت پر نظریں جما رکھی ہیں۔ لیبیا کا یہ شہر ملکی دارالحکومت طرابلس سے قریب چار سو کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

Libyen Luftangriff

باغیوں کو یہ کامیابی اتحادی افواج کے فضائی حملوں کی بدولت نصیب ہوئی ہے

الجزیرہ ٹیلی وژن کے علاوہ طرابلس سے موصولہ رپورٹوں میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ قذافی کے مخالف باغیوں کا ارادہ ہے کہ وہ سرت پر قبضے کے بعد مصراتہ کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیں گے۔ مصراتہ لیبیا کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے، جو ان باغیوں کے بقول ان کے لیے دارالحکومت طرابلس تک رسائی کے لیے گیٹ وے کا کام دے سکتا ہے۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق لیبیا میں باغی ہفتہ کے روز اجدابیا پر قبضے کے بعد اب مغرب کی سمت آگے بڑھتے جا رہے ہیں اور اس علاقے میں قذافی کے حامی دستے اب مسلسل پسپائی پر مجبور ہیں۔

اسی دوران آج اتوار کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس بھی ہو رہا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد شروع کیے جانے والے لیبیا کے خلاف فوجی آپریشن کی کمان مغربی ملکوں سے باقاعدہ طور پر اس اتحاد کو منتقل کی جانی چاہیے۔ لیبیا کے خلاف یہ آپریشن سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کی روشنی میں وہاں نو فلائی زون کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

Libyen Gaddafi Fernsehinterview 17.03.2011

قذافی کا اقتدار ہچکولے کھا رہا ہے

ادھر لیبیا کے خلاف فضائی آپریشن کے آٹھویں دن امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے آج کہا کہ لیبیا کے زیادہ سے زیادہ سفارت کار اور اعلیٰ فوجی اہلکار معمر قذافی کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔ کلنٹن کے بقول ان امکانات کو بھی غیر اہم نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ خود قذافی انتظامیہ میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل اور ہمدردیوں کی تبدیلیاں کتنی فیصلہ کن ہو سکتی ہیں۔

اٹلی میں روم س آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اطالوی وزیر خارجہ فرانکو فراتینی نے اس سفارتی منصوبے کا بنیادی خاکہ وضع کر دیا ہے، جس کے تحت لیبیا میں موجودہ خونریز بحران کو غیر فوجی انداز میں ختم کیا جا سکتا ہے۔ فراتینی نے اطالوی اخبار ’لا ری پبلیکا‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایسے کسی منصوبے میں ممکنہ طور پر یہ بات بھی شامل ہو سکتی ہے کہ معمر قذافی جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے بیرون ملک چلے جائیں۔

فراتینی نے کہا کہ لیبیا کے تنازعے کا کوئی ایسا حل قابل تصور نہیں جس کے تحت کرنل قذافی آئندہ بھی اقتدار میں رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ایک پلان موجود تو ہے اور وہ دیکھیں گے کہ آیا اسے ایک اطالوی، جرمن تجویز کی شکل دی جا سکتی ہے۔ فراتینی کے مطابق ہو سکتا ہے کہ اس سلسلے میں ایک مشترکہ دستاویز آئندہ منگل تک پیش کر دی جائے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شامل شمس

DW.COM