1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے وزیرِ خارجہ مذاکرات کے لیے ایتھوپیا میں

لیبیا کے وزیر خارجہ عبد العاطی العبيدی افریقی یونین کے ساتھ امن منصوبے پر بات چیت کے لیے ایتھوپیا پہنچ گئے ہیں۔

default

طرابلس میں قذافی کے کمپاؤنڈ پر امریکہ نے شدید حملے کیے ہیں

لیبیا میں جاری معمر قذافی کے حامیوں اور باغیوں کے درمیان جنگ اور اس حوالے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بات چیت کے لیے وزیرِ خارجہ عبدالعاطی العبیدی ایتھوپیا میں افریقی یونین کے نمائندوں سے مذاکرت کریں گے۔

اس سے قبل لیبیا کی حکومت افریقی یونین کے امن منصوبے پر متفق ہو گئی تھی تاہم باغیوں نے اس کو رد کردیا تھا۔ باغیوں کا مطالبہ ہے کہ قذافی فوری طور پر اقتدار چھوڑ دیں اور انہیں کوئی بھی منصوبہ قذافی کے استعفے کو نظر انداز کیے بغیر قبول نہیں ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا بھی کہنا ہے کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری قذافی کے خلاف ان کی فضائی کارروائی قذافی کے اقتدار سے بے دخل ہونے سے قبل ختم نہیں ہوگی۔

لیبیا کی حکومت کئی بار جنگ بندی کی پیشکش کر چکی ہے جسے باغی مسترد کرتے رہے ہیں۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ قذافی کی اس پیشکش کے باوجود ان پر شدید حملے کیے جا رہے ہیں۔

NO FLASH Libyscher Soldat

مصراتہ میں لڑائی جاری ہے

لیبیا نے جنگ بندی کے حوالے سے یونان، روس اور لاطینی امریکی ممالک کی خدمات حاصل کی ہیں۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں پیر کی صبح جنگی طیاروں کی پرروازوں کی اطلاع ہے جبکہ زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حالیہ لڑائی کے دوران اس قدر زور دار دھماکے پہلے نہیں سنے گئے۔ یہ دھماکے طرابلس کے مختلف علاقوں میں ہوئے ہیں، جن کے بعد لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن کی نشریات بھی کچھ دیر کے لیے بند ہوئی۔ باب العزیزیہ ضلع سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے لیبیا پر ڈرونز کے حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی فوج کا یہ بھی کہنا کہ نیٹو کی فضائی کارروائیوں میں قذافی کی فوج کا چالیس فیصد تک انفراسٹرکچر تباہ کیا جا چکا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے لیبیا میں ڈرون طیاروں کی کارروائیوں کے حوالےسے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم امریکی فوج کے اعلیٰ افسر ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ نیٹو کے جنگی طیاروں نے قذافی کی فوج کا چالیس فیصد تک انفراسٹرکچر تباہ کردیا ہے۔

لیبیا میں باغیوں نے مصراتہ پر مکمل قبضے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ بیان معمر قذافی کی حامی فوج کی جانب سے شہر کو چھوڑنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ تاہم فریقین کے ایسے اعلانات کے باوجود لڑائی شہر کی گلیوں میں پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM