1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لیبیا کے نواحی سمندری پانیوں سے قریب ایک ہزار مہاجرین ریسکیو

اطالوی کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ بحیرہء روم عبور کرنے کی کوشش کرنے والے قریب نو سو افراد کو لیبیا کی سمندری حدود کے پاس سے ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لیبیا سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کا رجحان بدستور قائم ہے اور گزشتہ روز اطالوی کوسٹ گارڈز نے نو سو ستر تارکین وطن کو بحیرہء روم کی نذر ہونے سے بچا لیا۔

جمعرات کے روز ان نئے تارکین وطن کے اطالوی جزائر لائے جانے سے قبل رواں برس کے آغاز سے اب تک لیبیا سے بحیرہء روم عبور کر کے یورپی یونین میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد قریب ساڑھے تیرہ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق تارکین وطن کی آمد میں یہ اضافہ سن 2016 کے مقابلے میں پچاس فیصد جب کہ 2015ء کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صرف جنوری اور فروری کے دو مہنیوں میں اس سفر کے دوران قریب ساڑھے چار سو تارکین وطن بحیرہء روم میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ شدید سردی کے باوجود اس رفتار سے تارکین وطن کی اطالوی جزائر تک پہنچنے کی کوشش کے تناظر میں موسم گرما میں اس تعداد میں کہیں زیادہ اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

جمعرات کے روز مہاجرین لکڑی کی ایک چھوٹی اور ایک قدرے بڑی کشتی میں سوار ہو کر بحیرہء روم کی موجوں سے نبرد آزما تھے، جب انہیں ریسکو کیا گیا۔

اطالوی کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ناروے کی ایک امدادی کشتی نے یورپی یونین کی سرحدی محافظ ایجنسی فرنٹیکس اور دو دیگر امدادی کشتیوں کے ہم راہ یہ مشترکہ آپریشن کیا۔

Mittelmeer Migranten und Flüchtlinge in Schlauchboot (picture-alliance/AP Photo/S. Diab)

سینکڑوں افراد کو ریسکیو کر لیا گیا

کوسٹ گارڈز کو 85 تارکین وطن کی حامل ایک اور کشتی کی جانب سے پریشانی کا سگنل موصول ہوا، جو یونانی سمندری حدود سے جنوبی اٹلی کی جانب رواں دواں تھی، تاہم یہ کشتی یونانی سمندری حدود عبور نہ کر سکی۔ اس کشتی کو مالٹا کے امدادی بحری جہازوں نے ریسکیو کیا، جب کہ تارکین وطن کو جنوبی یونانی بندرگاہی شہر کالاماتا پہنچایا گیا۔

یہ بات اہم ہے کہ یونانی جزائر کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی روک تھام کی یورپی کوششیں لیبیا کی جانب سے مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے پس پشت چلی گئی ہیں، کیوں کہ شمالی افریقہ سے یورپی حدود میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

یورپی ممالک تارکین وطن کو یورپی یونین پہنچنے سے روکنے کے لیے کڑے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، تاہم لیبیا میں تارکین وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے انتہائی شدید نوعیت کے تشدد اور وہاں پھنسے سینکڑوں تارکین وطن کی دگرگوں حالت کے تناظر میں امدادی ادارے یورپی یونین کے مجوزہ اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔