1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے معاملے پر امریکی صدر کی پہلی تنقید

لیبیا کی صورتحال پر امریکی صدر باراک اوباما نے آخرکار اپنی خاموشی توڑتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ دیگر اقوام کے ساتھ مل کر معمر قذافی کی حکومت سے وہاں ہونے والے خون خرابے کا احتساب کیا جائے گا۔

default

لیبیا میں حالیہ عوامی مزاحمت کو دبانے کی کوششوں کے طویل وقفے کے بعد امریکی صدر کا بیان سامنے آیا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق مصر اور بحرین کے مقابلے میں لیبیا میں امریکہ کا اثر و رسوخ محدود ہے۔ امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ لیبیا کے بحران سے متعلق ہر ممکنہ تجویز پر غور کر رہی ہے۔

اوباما کے بقول، ’’لوگوں کی پریشانی اور خون خرابہ ناقابل برداشت ہے، اس تشدد کو روکنا ہوگا۔‘‘

NO FLASH Libyen Evakuierung

لیبیا میں کشیدگی کے سبب غیر ملکیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیبیا میں موجود تمام امریکیوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایک بحری جہاز لیبیا سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے جو انہیں مالٹا جزیرے تک پہنچائے گا۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان P.J. Crowley کے مطابق سمندر میں اونچی لہروں کے سبب اس جہاز کی روانگی میں تاخیر ہوئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق لیبیا میں ہزاروں امریکی شہری مقیم ہیں، جن میں سے بعض کے پاس دہری شہریت ہے جبکہ محض 600 افراد کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے۔

امریکہ کی جانب سے فی الحال لیبیا پر کسی قسم کی پابندی کے اطلاق کی بات نہیں کی گئی تاہم یورپی یونین نے مختلف طرز کی پابندیوں کے اطلاق کا عندیہ دے دیا ہے۔ اس ضمن میں امریکی پابندیاں اس لیے بھی کم اثر سمجھی جارہی ہیں کیونکہ لیبیا کو امریکی برآمدات کا حجم 600 ملین ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے جبکہ امریکہ اس شمالی افریقی ملک کو سالانہ محض ایک ملین ڈالر امداد فراہم کرتا ہے۔

صدر قذافی کے بیٹے سعدی قذافی کا کہنا ہے کہ لیبیا میں اس ’مثبت زلزلے‘ کے بعد نوجوان قیادت سامنے آئے گی تاہم قذافی ’بڑے باپ‘ کی طرح صلاح و مشورے دیتے رہیں گے۔ دارالحکومت طرابلس سے برطانوی اخبار فنانشیل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا دعویٰ تھا کہ لیبیا میں 85 فیصد عوام پرسکون ہیں اور معمولات زندگی رواں ہیں۔

لیبیا میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پر تشدد مظاہروں کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 640 سے بھی زیادہ ہے۔

Muammar al-Ghaddafi mit Barack Obama in Italien

باراک اوباما لیبیا کے صدر معمر قذافی سے ہاتھ ملانے والے واحد امریکی صدر ہیں

حالیہ بیان میں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام عالم اس موقع پر یکساں مؤقف اختیار کریں۔ ’’یہ محض امریکہ کی پریشانی نہیں، تمام دنیا دیکھ رہی ہے اور ہم اپنے تعاون اور احتساب کے اقدامات کے سلسلے میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکہ اور لیبیا کے سفارتی تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی کے شکار چلے آرہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ لیبیا کے صدر معمر قذافی کی جانب سے لاکربی حملے جیسے واقعات کی کھلم کھلا حمایت کرنا ہے، جس میں 270 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM