1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے مسافر بردار طیارے کی ہائی جیکنگ ختم، اغواکاروں نے سرنڈر کر دیا

شورش زدہ افریقی ملک لیبیا کا ایک مسافر بردار طیارہ اغوا کر کے مالٹا میں اتار دیا گیا ہے۔ اِس ہوائی جہاز کو اندرون لیبیا دورانِ پرواز اغوا کیا گیا۔ اس پر 118 مسافر سوار ہیں۔

مالٹا کے وزیراعظم کے مطابق لیبیا سے اغوا کی گئی پرواز کے ہائی جیکروں نے سرنڈر کر دیا ہے۔ اب دونوں ہائی جیکرز سکیورٹی حکام کی تحویل میں ہیں۔ قبل ازیں لیبیا سے ہائی جیک کیے جانے والے ایک مسافر طیارے کو مالٹا اتار لیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا ہے کہ اس جہاز کے تمام مسافروں کو بعد میں ہائی جیکروں نے رہا کر دیا تھا۔ اسی دوران  ہائی جیکروں نے مالٹا میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

 ہائی جیکرز خود کو ایک قذافی نواز سیاسی پارٹی کے لیڈر ظاہر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے قذافی کے گرفتار بیٹے کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ لیبیا کی یونٹی حکومت کے وزیر خارجہ طاہر سیالا نے ہائی جیکروں کے بیان کی تصدیق کی ہے۔  اغوا کی جانے والی پرواز سبھا نامی شہر سے طرابلس کی جانب روانہ تھی۔

قبل ازیں جمہوریہ مالٹا کے میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا سے اغوا کیے جانے والے مسافر بردار ہوائی جہاز کو اغوا کرنے کے بعد مالٹا پہنچا دیا گیا تھا۔ لیبیا کی سرکاری ہوائی کمپنی افریقیہ ایئر ویز کا ایئربس 320 اندرون لیبیا اپنی منزل کی جانب روانہ تھا کہ اغوا کر لیا گیا۔

Malta Flugzeugentführung Airbus Afriqiyah Airways (Reuters/D. Z. Lupi)

لیبیا کے اغوا شدہ جہاز کے تمام مسافر رہا اور ہائی جیکرز نے سرنڈر کر دیا ہے

 دو ہائی جیکروں نے بم سے طیارہ اڑانے کی دھمکی دے کر طیارے کا رُخ زبردستی تبدیل کروایا تھا اور آج جمعہ، تیئیس دسمبر کی صبح اِس نے مالٹا کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی۔

 نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق افریقیہ ایئر ویز کی پرواز جنوب مغربی شہر سبھا سے طرابلس کی جانب روانہ تھی۔ اس پر عملے کے سات اراکین سمیت کل 118 مسافر سوار ہیں۔ ہائی جیکروں کی ہدایت پر ہوائی جہاز کے پائلٹ نے سمت تبدیل کرتے ہوئے اپنا ہوائی جہاز مالٹا میں بخیریت اتار دیا۔

لیبیا کے الوسط نیوز پورٹل نے کسی ذریعے کا حوالہ دیے بغیر رپورٹ کیا ہے کہ ہوائی جہاز کے پائلٹ نے کنٹرول روم کو بتایا کہ ہائی جیکروں نے دیسی ساخت کے دستی بم اٹھا رکھے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ ڈکٹیٹر حکمران معمر القذافی کو سن 2011 میں عوامی مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے فارع کیے جانے کے بعد سے لیبیا میں طوائف الملوکی، انتشار اور خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ یونٹی حکومت کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے لیکن سارے ملک میں اُس کو اپنا اختیار قائم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متحارب ملیشیا گروہ ایک حکومت زیر سایہ جمع ہونے سے انکاری ہیں۔