1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے عوام مجھے چاہتے ہیں، قذافی

عالمی طاقتوں کے شدید دباؤ کے باوجود گزشتہ چار دہائیوں سے لیبیا میں برسر اقتدار معمر قذافی نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا کے عوام آج بھی انہیں چاہتے ہیں۔

default

مغربی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معمر قذافی نے منگل کے روز کہا، ’وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میرے عوام مجھے چاہتے ہیں۔ وہ سارے مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ وہ میری حفاظت کے لیے مرنے پر بھی تیار ہیں‘۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی طرف سے نشر کیے گئے اپنے انٹرویو میں قذافی نے دعویٰ کیا، ’سڑکوں پر کوئی مظاہرے نہیں ہو رہے۔ میرے خلاف کوئی بھی نہیں ہے‘۔

دوسری طرف اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے قذافی کے ان بیانات اور اپنے ہی ملک کے عوام سے متعلق ان کی بےحسی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے معمر قذافی کے اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’وہ غلط فہمی کا شکارہیں۔ اس سے صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کی قیادت کرنے کے لیے کتنے نامناسب ہیں اور حقیقت سے کس طرح کٹے ہوئے ہیں‘۔

NO FLASH Muammar al Gaddafi 40 Jahre Libyen

گزشتہ چار دہائیوں سے لیبیا پر برسر اقتدار معمر القذافی

لیبیا میں قریب دو ہفتے قبل شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں پر حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں عالمی سطح پر قذافی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ منگل کے دن بھی کئی علاقوں میں جیٹ طیاروں نے مظاہرین پر بمباری کی۔ مختلف ذرائع سے ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق ان مظاہروں کے دوران کم ازکم ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شمالی افریقہ کے اس ملک کے مشرقی حصے میں جمہوریت کی حامی طاقتوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق قذافی ابھی تک طرابلس میں موجود ہیں جبکہ باغیوں نے آہستہ آہستہ اب دارالحکومت کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ دریں اثناء امریکہ سمیت مغربی ممالک نے کھلم کھلا کہہ دیا ہے کہ اب قذافی کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔ جنیوا منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا، ’لیبیا کے عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قذافی مزید تشدد یا تاخیر کے بغیر اقتدار سے الگ ہو جائیں‘۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ قذافی کو جلا وطنی اختیار کر لینی چاہیے۔ دوسری طرف قذافی نے امریکہ کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ٹیلی وژن ادارے ABC نے قذافی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’یہ دھوکہ دہی ہے، ان کے کوئی معیارات نہیں ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ القاعدہ کے خلاف جنگ میں ہمارے اور مغربی ممالک کے مابین اتحاد تھا۔ اور اب جب ہم دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں تو انہوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے‘۔

Sanktionen gegen Libyen Demonstrationen No FLASH

لیبیا کے عوام بضد ہیں کہ قذافی ملکی اقتدار سے الگ ہو جائیں

اے بی سی نے قذافی کے حوالے سے مزید کہا، ’ مغربی ممالک شاید لیبیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں‘۔ قذافی نے اقتدار سے الگ ہونے کے تمام تر مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ اس لیے نہیں کر سکتے کیونکہ نہ تو وہ بادشاہ ہیں اور نہ ہی صدر۔ قذافی نے ملک میں انتشار کی ذمہ داری القاعدہ پرعائد کی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM