1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لیبیا کے ساتھ معاہدہ درکار ہے مگر فی الحال ممکن نہیں، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ لیبیا کے ساتھ بھی مہاجرین کے موضوع پر ترکی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے جیسی ڈیل نہایت ضروری ہے، تاہم وہاں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے فی الحال یہ ممکن نہیں ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ لیبیا میں سیاسی استحکام کے قیام تک ایسا کوئی معاہدہ ممکن نہیں، جس کے ذریعے اس شورش زدہ ملک سے تارکین وطن کی یورپ آمد کا سلسلہ روکا جا سکے۔ گزشتہ برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت انقرہ حکومت کو پابند بنایا گیا تھا کہ وہ بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو روکے۔ تاہم اب لیبیا سے اطالوی جزائر کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد ہزاروں میں ہے اور کہا جا رہا ہے کہ لیبیا کے ساتھ بھی اسی طرز کا معاہدہ ناگزیر ہے۔

میرکل نے اپنے بیان میں کہا کہ قریب چار ہزار سے زائد مہاجرین لیبیا سے اطالوی جزائر تک پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔  اپنے ویڈیو پیغام میں میرکل نے کہا، ’’ہم اس وقت ترکی کی طرز کا کوئی معاہدہ طے نہیں کر سکتے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے ’’جب لیبیا میں سیاسی صورت حال بہتر ہو، جب یونٹی حکومت واقعی ایک یونٹی حکومت ہو اور ملک کے تمام حصوں کا کنٹرول اس کے پاس ہو اور اس سے انسانی حقوق اور دیگر معاملات پر بات چیت ہو سکے۔‘‘

لیبیا میں سن 2011ء میں مسلح بغاوت اور طویل عرصے تک حکمران معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے۔ اسی سیاسی اور سکیورٹی عدم استحکام کا فائدہ اٹھا کر انسانوں کے اسمگلر لیبیا کی سرزمین کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اب غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے لیبیا سے بحیرہء روم کے ذریعے اطالوی جزائر کی جانب پہنچنے کا عمل ایک اہم رستے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔