1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے خلاف فضائی کارروائی ساتویں روز بھی جاری

اتحادی فوج کی طرف سے لیبیا کی حکومتی افواج کے خلاف فضائی کارروائی اور میزائل حملے ساتویں روز بھی جاری ہیں۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب لیبیائی شہر اجدابیا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

default

دوسری جانب نیٹو آپریشن کی کمانڈ کینڈین جنرل Charles Bouchard کے حوالے کر دی گئی ہے۔ قطر کی فضائیہ کی طرف اس فوجی مہم میں شمولیت کا اعلان کیا گیا ہے۔ فرانسیسی فوج نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ نو فلائی زون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قطر کے دو میراج لڑاکا طیارے فرانسیسی جیٹ طیاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتحادی جنگی جہازوں نے اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم شہر اجدابیا میں معمر قذافی کی حامی فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ صحافیوں کے مطابق دو زور دار دھماکے سنے گئے ہیں اور مقامی شہری ملک کے دوسرے پرامن شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

لیبیا کی وزارت صحت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ چار روز میں اتحادی افواج کے حملوں میں کم از کم 114 افراد ہلاک جبکہ چار سو پینتالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری اہلکار خالد عمر کا کہنا تھا کہ 20 سے 23 مارچ کے دوران اتحادی افواج کے حملوں میں 104 افراد طرابلس میں جبکہ 10 معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں ہلاک ہوئے۔ خالد عمر کے مطابق جمعرات کو ہونے والوں حملوں میں سو افراد مارے گئے تھے۔ ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Flash-Galerie Libyen Italien F-16 in Aviano

اتحادی جنگی جہازوں نے اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم شہر اجدابیا میں معمر قذافی کی حامی فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے

دوسری جانب قذافی کی حامی فورسز کی طرف سے باغیوں کے زیر کنٹرول شہر مصراتہ پر شدید حملے اور بمباری کی جا رہی ہے۔ اس شہرکے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے اس علاقے پر بمباری کی جا رہی ہے۔ اس رہائشی کے مطابق شہر میں بجلی بند ہے جبکہ لوگوں کو اشیائے خوردونوش کی بھی قلت کا سامنا ہے۔ مصراتہ کے مقامی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ قزافی کی حامی فورسز کی بمباری سے ابھی تک اس شہر میں 109 افراد ہلاک جبکہ تیرہ سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 80 افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

دریں اثناء وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما پیر کے روز لیبیا کے موضوع پر خطاب کریں گے۔

قبل ازیں فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے لیبیا کے مسئلے کا غیر فوجی حل تلاش کرنے کی کوششوں کا اشارہ دیا تھا۔ فرانسیسی صدر کہنا تھا کہ فرانس اور برطانیہ لیبیا کے بحران کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ منگل 29 مارچ کو لندن میں طے شدہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یقینی طور پر فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ پیشرفت سے واضح ہو جائے گا کہ لیبیا کے مسئلے کا محض فوجی حل ہی نہیں ہے بلکہ سیاسی اور سفارتی حل بھی ہوسکتا ہے۔‘‘

لندن میں منگل کو ہونے والی ملاقات کو لیبیا کے معاملے پر رابطہ گروپ کا نام دیا گیا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد لیبیا میں جاری اتحادی فوجی آپریشن کے حوالے سے برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے علاوہ افریقن یونین، عرب لیگ اور یورپی اقوام کو قریب لانا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM