1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لیبیا کے حراستی کیمپوں سے مہاجرین کے پہلے جہاز کی اٹلی آمد

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق لیبیا کے حراستی مراکز سے ایک سو باسٹھ مہاجرین بذریعہ ہوائی جہاز اٹلی لائے گئے ہیں۔ یو این ریفیوجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان تارکین وطن کو لیبیا میں جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’ یو این ایچ سی آر ‘ کا کہنا ہے کہ افریقی ملک اریٹیریا، ایتھوپیا، صومالیہ اور یمن سے تعلق رکھنے والے ان مہاجرین کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا تھا اور اور انہیں انسانی اسمگلروں کی جانب سے مارا پیٹا بھی جاتا تھا۔

مہاجرین کے حوالے سے وسطی بحیرہ روم کی صورت حال کی نگرانی کرنے والے یو این ایچ سی آر کے خصوصی نمائندے ونسوں کوچیتل نے کہا،’’ یہ پہلی بار ہے کہ ہم ان غیر محفوظ اور کمزور تارکین وطن کو لیبیا سے براہ راست اٹلی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ‘‘

اٹلی میں ان ایک سو باسٹھ تارکین وطن کو مختلف مہاجرین مراکز میں منتقل کیا جائے گا اور ان کی دیکھ بھال چرچ کا فلاحی ادارہ کاریتاس کرے گا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم متعدد تنظیموں کی جانب سے یورپی یونین کو لیبیا کے حراستی کیمپوں میں مقیم مہاجرین کی حالت زار پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بحیرہء روم کے ذریعے یورپی یونین میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی کے لیے یورپی یونین لیبیا کو معاونت فراہم کر رہی ہے، جس میں کوسٹ گارڈز کی تربیت بھی شامل ہے۔

کئی ملین یورو مالیت کے اس پروجیکٹ کے تحت اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے ذریعے لیبیا میں تارکین وطن کے حراستی مراکز کی حالت زار کی بہتری کی کوشش بھی کی جا رہی ہے، تاہم وہاں ہزاروں مہاجرین اب بھی انسانوں کے اسمگلروں کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ان مہاجرین کو شدید جسمانی تشدد، جبری مشقت، غلامی اور جنسی استحصال کا سامنا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں الزام عائد کرتی ہیں کہ لیبیا کے بعض حکومتی عناصر ان اسمگلروں سے تعاون بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ریکارڈ تعداد میں ایک ملین سے بھی زائد انسان بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچے تھے۔ آئی او ایم کے مطابق رواں برس تین ہزار سے زائد انسان بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔

DW.COM