1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے حالات پر دنیا خاموش نہیں رہ سکتی، راسموسن

لیبیا میں قذافی کی حامی سکیورٹی فورسز حکومت مخالف قوتوں کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ قذافی کی اس جارحیت کے جواب میں دنیا خاموش رہے گی۔

default

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیبیا کے مشرقی علاقوں کے علاوہ طرابلس سمیت کئی دیگر مقامات پر قذافی کی فوجیں اور حکومت مخالف طاقتوں کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ قذافی اپنے مخالفین کے خلاف بھاری اسلحے کے استعمال کے علاوہ فضائی کارروائی بھی جاری رکھےہوئے ہیں۔

لیبیا کے مخدوش حالات کے تناظر میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نہیں سوچ سکتے کہ قذافی کی طرف سے اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کے ناجائز اور بے جا استعمال کے بعد عالمی برادری خاموشی اختیار کیے رہ سکتی ہے،’عالمی برداری تمام صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ اگر قذافی اور ان کی فوج کی جانب سے لیبیا کےعوام پر منظم اور منصوبہ بندی کے ساتھ حملے جاری رہتے ہیں، تو میں نہیں سوچ سکتا کہ عالمی برداری اور اقوام متحدہ کچھ نہیں کرے گی‘۔

NO FLASH Libyen Kämpfe Rebellen

لیبیا میں حکومت مخالف طاقتیں قذافی کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں

دوسری طرف فرانس اور برطانیہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے لیے ایک ایسا مسودہء قرارداد تیار کرنے میں مصروف ہیں، جس میں لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے کے حوالے سے تجاویز ہوں گی۔ لیبیا میں حکومت مخالف طاقتیں پہلے ہی مطالبہ کر رہی ہیں کہ عالمی برداری آگے بڑھے اور وہاں نو فلائی زون قائم کر دیا جائے تاکہ قذافی کی حامی فوج ان کے خلاف فضائی کارروائی نہ کر سکے۔

عرب ممالک بالخصوص لیبیا کے ہسمایہ ممالک بھی نو فلائی زون کے حوالے سے اپنی رضا مندی ظاہر کر چکے ہیں۔ اسی معاملے پر جمعرات کو نیٹو کے ایک اہم خصوصی اجلاس میں بحث کی جائے گی۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ نو فلائی زون پرعالمی برداری میں کچھ اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔

دوسری طرف ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ قذافی نے اپنے مخالفین کو اِس شرط پر اقتدار سے الگ ہونے کی پیش کش کی ہے کہ انہیں اور ان کے گھر والوں کو اپنی تمام دولت کے ساتھ جلا وطنی اختیار کرنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم مخالفین نے ایسی تمام پیش کشوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اس صورتحال میں پیر کے دن امریکی حکام نے ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ وہ لیبیا میں قذافی کی جارحیت کو روکنے کے لیے تمام متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس