1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے بحران پر عالمی برادری میں اختلافات

لیبیا میں نیٹو کے مشن پر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس پر عدم اطمینان ظاہر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مغرب کی جانب سے طرابلس حکومت کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کی شرائط کو طول دیا جا رہا ہے۔

default

روس کے وزیر اعظم ولادی میر پوٹن نے منگل کو ایک بیان میں کہا، ’کیا دنیا میں ایسی بددیانت حکومتوں کی کمی ہے؟ کیا ہم ہر جگہ بمباری کریں گے اور میزائلوں سے کارروائیاں کریں گے؟‘

ڈنمارک کے ایک دورے کے موقع پر پوٹن نے اتحادی فورسز پر شہریوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ان کا کہنا ہے کہ وہ قذافی کو مارنا چاہتے ہیں۔ اس کی اجازت کس نے دی، کیا اس حوالے سے کوئی مقدمہ چلایا گیا؟ اس آدمی کو کیفرکردار تک پہنچانے کا حق آخر کسے حاصل ہے؟‘

اُدھر لیبیا کے سرکاری خبر رساں ادارے Janaکے مطابق طرابلس حکومت نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائے۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے روس کے ایک حکومتی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو حکومت نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

Disput Putin und Medwedew bei Treffen des Staatsrats im Kreml

روسی وزیر اعظم ولادی میر پوٹن اور صدر دیمیتری میدویدیف

دوسری جانب افریقی یونین کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے مغربی ممالک کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انہوں نے اے یو کے اُس امن منصوبے کو کوئی اہمیت نہیں دی، جس کے تحت معمر قذافی کی اقتدار سے بے دخلی ضروری نہیں تھی۔

ایک ماہ سے زائد عرصے سے برطانیہ اور فرانس کی سربراہی میں جاری نیٹو کی کارروائیاں معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ان کے نتیجے میں باغیوں کو بھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ اس دوران منگل کو برطانوی اور امریکی حکام نے ملاقات کی ہے، جس میں قذافی پر عسکری دباؤ بڑھانے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

واشنگٹن میں ہونے والی اس ملاقات میں برطانوی وزیر دفاع لیام فوکس، برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل ڈیوڈ رچرڈ، امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور اعلیٰ امریکی فوجی افسر ایڈمرل مائیک مولن شامل تھے۔ اس ملاقات کے بعد رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اتحادی فورسز کی توجہ صرف قذافی پر ہی نہیں تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM