1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے باغی اربوں ڈالر کے طلب گار

لیبیا میں باغیوں نے حکومتی اور جنگی اخراجات کے لیے اپنی حامی غیر ملکی طاقتوں سے تقریباً تین بلین ڈالر تک کی کثیر رقم مانگی ہے۔ باغیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ رقوم لیبیا کے بیرون ملک منجمد سرکاری اثاثوں سے ادا کی جائے۔

default

منگل کے روز لیبیا میں باغیوں کی قومی کونسل کی فنانس کمیٹی کے سربراہ علی ترحُونی نے اپنی حامی بین الاقوامی طاقتوں سے درخواست کی ہےکہ بن غازی اور دوسرے شہروں میں حکومتی اور جنگی اخراجات کے لیے انہیں لیبیا کے مجنمد اثاثوں میں سے دو سے تین بلین ڈالر کی رقم ادا کی جائے۔ یہ رقوم امریکہ اور یورپی ممالک کے بینکوں میں جمع ہیں۔

ترحونی کے مطابق روزمرہ کے اخراجات کے لیے یومیہ خرچہ 50 سے 100 ملین دینار ہے۔ یہ رقم 43 سے 86 ملین ڈالر کے مساوی ہے۔ لیبیا کی کرنسی کا نام دینار ہے اور اس کی قدر اندرونی خلفشار سے قبل خاصی مستحکم تھی۔

باغیوں کی مالیاتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا، ’’ہمارے پاس صرف اتنی نقدی رہ گئی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ زیادہ تین یا چار ہفتے گزارا کر سکتے ہیں اور اگر رقم کا بندوبست نہ ہوا تو وہ دیوالیہ ہو سکتے ہیں۔‘‘

NO FLASH Symbolbild Libyen Kämpfe um Misrata

ترحونی کے مطابق روزمرہ کے اخراجات کے لیے یومیہ خرچہ 50 سے 100 ملین دینار ہے

لیبیا کی معیشت کا انحصار خام تیل کی پیداوار پر ہے تاہم باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں تیل کی پیداوار کم ہونے کے باعث ان کی آمدنی میں مسلسل کمی آتی جا رہی ہے۔

علی ترحونی کا مزید کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ فرانس، اٹلی اور امریکہ جیسے ممالک انہیں ایک ہفتے سے دس دن کے اندر یہ رقم فراہم کر دیں گے۔ باغیوں کے گڑھ بن غازی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کہنا تھا، ’’ہمیں دو سے تین بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کا زیادہ تر حصہ یا ساری رقم ہمیں مل جائے گی۔‘‘

لیبیا میں گزشتہ دو ماہ سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ادویات، خوراک اور سرکاری اہلکاروں کو تنخواہوں کی فراہمی کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے، جن میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

باغی نیٹو افواج کی مدد سے قذافی حکومت کو گرانا چاہتے ہیں، جبکہ قذافی کی حامی اور بہتر تربیت یافتہ فورسز ابھی تک ان کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

ترحونی کا کہنا تھا کہ انہیں جنگ زدہ شہروں کے عوام کے لیے خوراک، ادویات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں مشرقی شہروں میں قذافی کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے لیے خاصی بڑی رقم درکار ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM