1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے باغیوں کے لیے خطیر رقم، قذافی کے خلاف فضائی آپریشن جاری

نیٹو کے جنگی طیارے طرابلس میں اپنی فضائی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دریں اثناء مغربی اور عرب ممالک کے گروپ نے معمر القذافی کے خلاف نبرد آزما باغیوں کو ایک بلین ڈالر سے زائد کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعہ کی علی الصبح نیٹو کے جنگی طیاروں نے طرابلس پر نئے حملے کیے ہیں۔ حملوں کا یہ سلسلہ تمام رات جاری رہا۔ روئٹرز کے ایک نمائندے نے طرابلس سے بتایا ہے کہ بمباری کی آوازوں سے رات بھر شہر گونجتا رہا۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ان تازہ حملوں سے قبل گزشتہ روز 22 اقوام پر مشتمل لیبیا کانٹیکٹ گروپ نے ابو ظہبی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں قذافی کے بعد کے لیبیا کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ اس گروپ میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ قذافی کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری ہے تاکہ وہاں اقتدار کی منتقلی کا عمل جلد از جلد طے ہو جائے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ اس موقع پر آسٹریلوی وزیر خارجہ کیون رڈ نے کہا کہ قذافی کو اقتدار سے الگ کرنے کا عمل توقعات سے قبل ہی مکمل کر لیا جائے گا۔

Abu Dhabi Libyen Kontaktgruppe

لیبیا کانٹیکٹ گروپ نے باغیوں کو ایک بلین ڈالر سے زائد کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے

دوسری طرف ایک خطیر رقوم کی امداد کے وعدے کے باوجود لیبیا کے باغی تذبذب کا شکار ہیں۔ باغیوں کے ایک اعلیٰ رہنما علی ترھونی نے روئٹرز کو بتایا،’ ہمارے لوگ مر رہے ہیں۔ میں اپنے ساتھیوں کو یہ پیغام دوں گا کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لیے جلدی دکھائیں‘۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ قذافی کے حامی فوجی دستوں نے مشرقی پہاڑی علاقوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ باغیوں کے ایک ترجمان جمعہ ابراہیم نے کہا،’ قذافی کی فورسز زنتان میں میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ قذافی کے حامی دستے مصراتہ، یفرن اور نالوت میں بھی شیلنگ کر رہے ہیں۔

باغیوں کے ایک ترجمان عبدالسلام کے بقول گزشتے ہفتے کے دوران ان کے 22 ساتھی مارے جا چکے ہیں لیکن نیٹو اتحاد ابھی تک جنگی ہیلی کاپٹروں کا استعمال شروع نہیں کر رہا ہے۔ دوسری طرف بین الاقوامی فوجداری عدالت نے کہا ہے کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ قذافی نے اپنی افواج کو مخالف خواتین کی آبروریزی کا حکم دے رکھا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس