1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے باغیوں کو اسلحےکی فراہمی خارج از امکان نہیں، کیمرون

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے لیبیا میں حکومت مخالف باغیوں کو قذافی افوج کے خلاف جنگ کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے معاملے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

default

ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں معمر قذافی کے مخالفین کو اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے بحث میں مصروف ہیں۔

آج بدھ کے روز ملکی پارلیمنٹ کے اجلاس میں باغیوں کو مسلح کرنے کی پالیسی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

Reaktionen der Gaddafi-Gegner auf die Einrichtung der Flugverbotszone

قذافی کی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے باغیوں کو اسلحے کی فراہمی کا فیصلہ خارج از امکان نہیں

واضح رہے کہ عالمی برادری کے اشتراک سے اقوام متحدہ نے لیبیا کو نو فلائی زون قرار دینے کے علاوہ باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ لیبیا کے خستہ حال باغیوں کو قذافی حکومت کے خلاف جنگ میں مسلح نہ کیا جائے۔

کیمرون نے برطانوی دارالعوام یعنی ہاؤس آف کامن میں قانون سازوں کو بتایا کہ قانونی طور پر یہ واضح ہے کہ لیبیا کے کسی بھی علاقے میں اسلحہ فراہم نہیں کیا جائے گا، لیکن دوسری جانب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی 1973ء کی قرارداد اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ شہری آبادی والے علاقوں میں شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکنہ ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے نظریے کے مطابق شہریوں کی حفاظت کے لیے باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کو لازمی طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ادھر امریکی صدر باراک اوباما بھی لیبیا میں باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کےامکان کو مسترد نہیں کر رہے۔

رپورٹ:عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM