1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لیبیا کےلیے جمہوریت نا گزیر ہے، ماہرین

لیبیا کواب تک انقلابی رہنما معمر قذافی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ دنیا کے نقشے پر تنہا یہ ملک جمہوریت کی راہ پرگامزن ہونا چاہتا ہےتاہم یہ مرحلہ انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

default

لیبیا دنیا میں تیل کی پیداوار کے حوالے سے17ویں نمبر پر آتا ہے۔ لیبیا کی معیشت میں مرکزی کردار تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہی ادا کرتی ہے اور یہ آمدنی اس ملک کی چھ ملین سے زائد کی آبادی کی ضروریات زندگی کے لیے کافی سے بھی زیادہ ہے۔ چار دہائیوں سے لیبیا کا داخلی استحکام، تیل کی آمدنی کا انتظام اور تقسیم صدر معمر قذافی ہی کے ہاتھوں میں ہے۔ ماہر سیاسیات ازابیل ویرنفیلس کے بقول قذافی ہمیشہ یہ آمدنی لیبیا کے مختلف قبائل کی طرفداریاں خریدنے کے لیے خرچ کرتے رہے۔ ان کے بقول یہ قبائل لیبیا کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

لیبیا میں دس بڑے قبائل ہیں اور ان کے کئی ذیلی قبائل پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ معمر قذافی کا تعلق ایک ایسے چھوٹے قبیلے سے ہے، جسے لیبیا میں غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔ اپنے چالیس سالہ دور کے دوران قذافی نے اپنے قبیلے کو فائدہ اور ایک خاص مقام دینے کی کوشش میں اُسے بھرپور انداز سے نوازا ہے۔

Libyen Unruhen Öl Ölpreis Wintershall

لیبیا کی معیشت میں مرکزی کردار تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہی ادا کرتی ہے

ازابیل کے بقول یہ حالیہ مظاہرے اسی یکطرفہ سیاست کا نتیجہ ہیں،’’یقیناً اس طرح کے اقدامات ناراضگی اورغصے کی وجہ بنتے ہیں۔ بن غازی میں جو کچھ ہوا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قذافی کے خلاف آواز سب سے پہلے اُس جگہ سے بلند ہوئی، جسے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور وہ قبائل اِس مخالفت کے آغاز کا باعث بنے، جن پرکوئی توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ ملک کے مشرقی حصے میں تعمیر و ترقی کا کوئی کام نہیں کیا گیا اور قذافی کو اس کا خمیازہ اب بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘

لیبیا شمالی افریقہ کا سب سے امیر ملک ہے لیکن یہاں بدعنوانی بھی عروج پر ہے۔ ماہرین اس کی ایک وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ملک کے چند اہم خاندان اور امراء بہت بدعنوان ہیں اور یہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قذافی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے افریقہ میں باغیوں کی پشت پناہی کے لیے بھی بڑی رقوم خرچ کی ہیں۔

سماجی علوم کے ماہر برہان غالیون کے بقول قبائل لیبیا کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ انہیں اس مقصد کے لیے متحد بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول لیبیا کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت اب لیبیا کے لیے نا گزیر ہو گئی ہے۔ ریاست نے ملک کے ہر شعبے پر اتنا دباؤ رکھا ہوا ہے کہ اپوزیشن کے معدودے چند افراد کے لیے حالات بہت ہی خطرناک ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : امجد علی