1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی مغربی سرحد پر قذافی نواز فوج تعینات

لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے ملک کی مغربی سرحد کے ساتھ اپنی افواج تعینات کر دی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پیش قدمی امریکہ کی جانب سے بحری بیڑے اور فضائی فوج لیبیا کی جانب روانہ کرنے کے اعلان کے ردِعمل کے طور پر کی گئی ہے۔

default

لیبیا کا بحران تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم وہاں سے موصول ہونے والی خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق لیبیا کی سرحد سے ملحق تیونس کے سرحدی علاقے میں موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہاں لیبیائی فوج کی گاڑیاں دیکھی گئی ہیں حالانکہ اس سے قبل وہاں فوج موجود نہیں تھی۔

Susan Rice

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوسن رائس

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ تیونس کے ساتھ لیبیا کی سرحد پر صورتحال شدت اختیار کر گئی ہے جبکہ بیس فروری سے اب تک ایک لاکھ کے قریب افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر سوسن رائس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ فوجی کارروائی کے حوالے سے نیٹو ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ تاہم فرانس نے کہا ہے کہ معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹانے سے زیادہ توجہ لیبیا کے عوام کی مدد پر دی جانی چاہیے۔ فرانسیسی حکومت نے طبی عملے اور سازوسامان کے ساتھ دو طیارے لیبیا کے شہر بن غازی روانہ کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے لیبیا کے خلاف بین الاقوامی سطح پر عسکری کارروائی کی تجویز پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق شمالی افریقہ کے اسلام پسندوں میں اثرورسوخ رکھنے والے الجزائر کے جلاوطن رہنما عبداللہ انس نے کہا ہے کہ مغرب کی جانب سے لیبیا کے باغیوں کی عسکری مدد ایک غلطی ہو گی اور اس کا فائدہ قذافی اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو پہنچے گا۔

تاہم لندن اسکول آف اکنامکس میں شمالی افریقہ کے امور کی ماہر عالیہ براہیمی نے کہا ہے کہ لیبیا میں شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی نہ کسی طرح کی فورس ہونی چاہیے۔

سوسن رائس نے معمر قذافی کو ’وہمی‘ اور ’نااہل‘ بھی قرار دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کو دیے گئے قذافی کے حالیہ انٹرویو کے ردعمل میں سوسن رائس نے کہا کہ قذافی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں اور یہ بات سوالوں پر ان کے ہنسنے سے ظاہر ہوتی ہے جبکہ وہ اپنے لوگوں کو قتل بھی کر رہے ہیں۔

Muammar al-Gaddafi Libyen Rede Ansprache BESSERE QUALITÄT NO FLASH

لیبیا کے رہنما معمر قذافی

معمر قذافی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ لیبیا کے عوام ان سے محبت کرتے ہیں اور طرابلس میں ان کے خلاف مظاہرے نہیں ہو رہے۔ قذافی نے مظاہرین پر بمباری کرنے کی بھی تردید کی تاہم اعتراف کیا کہ عسکری اہداف اور اسلحہ خانوں کو نشانہ ضرور بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ نوجوانوں کو منشیات فراہم کرکے سڑکوں پر لا رہی ہے۔

اوباما انتظامیہ کے مطابق امریکہ میں معمر قذافی اور ان کے خاندان کے تیس ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس