1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی فوجی قوت مفلوج اور قذافی پناہ گاہ میں: نیٹو

نیٹو کے اراکین کی گزشتہ روز ہونے والے میٹنگ میں لیبیا پر فضائی حملوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ نیٹو کی کارروائی کے بعد قذافی پناہ گاہ میں رہنے پر مجبور ہوگئے، جب کہ فوجی قوت کمزور ہوگئی ہے۔

default

نیٹو کے ترجمان رومیریو اور بریکن

شمالی افریقی ملک لیبیا میں قذافی کی حامی فوج کے خلاف نیٹو کی فضائی کارروائی کا معاملہ مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد نیٹو کی میٹنگ میں زیر بحث لایا گیا۔ اس میں اتفاق کیا گیا کہ فضائی حملوں سے لیبیا کی فوجی استعداد انتہائی کمزور ہوکر تقریباً مفلوج ہوگئی ہے۔ طرابلس اور دوسرے شہروں میں قائم اہم و حساس فوجی مقامات پر بمباری کے بعد لیبیا کے لیڈر معمر القذافی پناہ گاہ میں رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

نیٹو کے رکن ملکوں کی میٹنگ کے بعد خاتون ترجمان کارمین رومیریو نے بتایا کہ لیبیا کی صورت حال میں بہتری کے ساتھ ساتھ حقیقی پیش رفت سامنے آنا شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق نیٹو کی فضائی مہم سے باغیوں کے قبضے والے شہروں پر حکومتی فوج کے دباؤ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیوز بریفنگ میں کارمین رومیریو کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو کے اراکین اور پارٹنرز میں اتفاق ہے کہ اس عمل میں جو شروعات کی گئی ہے اب اس میں پیدا شدہ مثبت رفتار پر نیٹو کوکنٹرول حاصل ہے۔

NO FLASH Schiffe in Libyen

طرابلس کی بندگاہ پر لیبیا کا جنگی بحری جہاز نیٹو کے حملے کے بعد، شعلوں کی لپیٹ میں

مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد کے ادارے کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس مشن میں ان کی کارروائی کا موٹو تبدیل نہیں ہوا ہے۔ اس مشن کے ذریعے لیبیا کی عوام کے مال، اسباب اور زندگیوں کو سرکاری فوج کے حملوں اور دھمکیوں سے بچانا مقصود ہے۔ رومیریو کے مطابق اس کا ثبوت مصراتہ کا شہر ہے، جہاں نیٹو کے حملوں کی وجہ سے قذافی کی حامی فوج شہر کا محاصرہ ختم کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔

جمعرات کے روز لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن نے معمر القذافی کی تازہ سرگرمیوں کے فوٹیج ریلیز کیے تھے۔ اس مناسبت سے نیٹو کے فوجی ترجمان ونگ کمانڈر مائیک بریکن کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں کے بعد قذافی کی آزادانہ نقل و حرکت محدود ہو چکی ہے۔

دوسری جانب لیبیا میں پیدا شدہ مجموعی صورت حال گھمبیر ہے۔ تین ماہ سے زائد عرصے سے عوامی تحریک کو عالمی طاقتوں کی پذیرائی حاصل ہے۔ باغی اب اپنی صفوں میں نئی ترتیب پیدا کر کے طرابلس کی جانب پیش قدمی کی ہمت کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں قذافی کے اندرونی حکومتی حلقوں میں دراڑ پیدا ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ لیبیا کے تیل کے وزیر شکوری غنیم کے بارے میں حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ سرکاری دورے پر بیرون ملک گئے ہیں جب کہ باغی اور تیونس کے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے حکومت کی حمایت ترک کردی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ طرابلس میں قائم حکومت باغیوں کو جرائم پیشہ گروہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کو القاعدہ کا آلہ کار بھی خیال کرتی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس