1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی صورت حال تعطل کا شکار

لیبیا کی صورت حال تعطل کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور کرنل قذافی نے ابھی تک اپنے قدم مضبوطی سے جما رکھے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ تعطل مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں بھی جاری رہے گا۔

default

پانچ ماہ سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کی سفارتی کوششوں مزید دشوار ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ باغیوں اور مغربی اتحاد کے درمیان اس بات پر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا اقتدار چھوڑنے کے بعد قذافی ملک میں رہ سکتے ہیں یا نہیں۔

اکتالیس سال کا عرصہ مسند اقتدار پر گزارنے والے قذافی میں سیاسی فہم و فراست کی کوئی کمی نہیں اور وہ دونوں فریقوں کے اختلافات اور نیٹو اتحاد کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

نیٹو جس نے گزشتہ چار ماہ سے لیبیا پر بمباری کی مہم شروع کر رکھی ہے، کی خواہش ہے کہ مذاکرات سے یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

Nato und US Flagge

لیبیا میں نیٹو کی فوجی کارروائی میں شریک اکثر مغربی ممالک تنازعے کا جلد سے جلد اختتام چاہتے ہیں۔

نارتھ افریقہ رسک کنسلٹنگ نامی ادارے کے سربراہ جیف پورٹر نے کہا, ’’قذافی اقتدار نہیں چھوڑیں گے جبکہ باغی ان کے ملک میں ٹھہرنے پر راضی نہیں ہوں گے۔ تاہم وہ انہیں ہٹا بھی نہیں سکتے۔‘‘

جمعرات کو باغی تحریک نے تیونس کی سرحد کے نزدیک ایک اور شہر پر قبضہ کرنے کا دعوٰی کیا جس پر اس سے پہلے سرکاری فورسز کا کنٹرول تھا۔

باغی جغرافیائی لحاظ سے بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے پاس تربیت اور اسلحے کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ ابھی تک قذافی کی حامی فورسز کو فیصلہ کن شکست نہیں دے سکے۔

میدان جنگ میں غیر یقینی عنصر کی وجہ سے لیبیا میں نیٹو کی کارروائی میں شریک مغربی ملکوں نے سفارتی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ برطانیہ اور پرتگال ان تیس ملکوں میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے بن غازی میں باغی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔ برطانیہ نے لیبیا کا نوے ملین پونڈ کا منجمد سرمایہ بھی بحال کر دیا تاکہ باغیوں کی فوجی مدد کی جا سکے۔

ادھر طرابلس سے بھی ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔ ایک جانب تو اس قسم کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں کہ حکومت امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتی ہے، اور دوسری جانب کوئی ایسا حل منظور نہیں کیا جا رہا جس میں قذافی کا اقتدار چھوڑنا شامل ہو۔

معمر قذافی نے بدھ کو ایک بار پھر اپنے روایتی آتشیں خطاب میں کامیابی یا شہید کی موت مرنے کا اعلان کیا۔ قذافی یقیناﹰ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے اپنے وارنٹ گرفتاری کے بارے میں محتاط ہیں کیونکہ وہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک جیسے انجام سے بچنا چاہتے ہیں جو اگلے ماہ مقدمے کا سامنا کریں گے۔

رواں ہفتے اقوام متحدہ کے مندوب عبدل ال خطیب کی جنگ بندی اور قذافی کے بغیر عبوری حکومت کے قیام کی تجویز بھی ناکامی سے دوچار ہو گئی۔

دارالحکومت طرابلس میں موجود غیر ملکی صحافیوں کا خیال ہے کہ قذافی کے گرد گھیرا تنگ ہونے کے باوجود انہیں ہٹانا اتنا بھی آسان نہیں جیسا کہ پہلے امید کی جا رہی تھی۔

NO FLASH Internationale Strafgerichtshof Gaddafi

قذافی کے اقتدار چھوڑنے کے ابھی تک کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے فیلو جارج جوف نے کہا، ’’گزشتہ چار ماہ کے دوران برطانیہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے محسوس کیا ہے کہ حکومتوں کو ہٹانے کا کام اتنا بھی آسان نہیں جتنا محسوس ہوتا تھا۔‘‘

یورپ کی اکثر حکومتیں چاہتی ہیں کہ اکتوبر کے اوائل تک یہ کارروائی مکمل ہو جائے اور امریکا نے اپنا کردار پہلے ہی محدود کر دیا ہے۔

بظاہر اس تنازعے کا اختتام کسی ایک فریق کی جانب سے میدان چھوڑ جانے پر ہو گا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM