1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی صورتحال سنگین سے سنگین تر

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی فیصلہ سازی سے متعلق اہم کونسل کا ایمرجنسی اجلاس آج ہفتے کے روز ہورہا ہے۔ اس اجلاس میں لیبیا میں نوفلائی زون کے حوالے سے فوجی منصوبہ بندی سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔

default

بن غازی کے نواح میں دھماکہ

برسلز میں موجود نیٹو حکام کے مطابق 'نارتھ اٹلانٹک کونسل' جلد ہی آپریشن شروع کرنے کا حکم جاری کرسکتی ہے۔ مزید یہ کہ فوجی حکام ممکنہ کارروائی کے لیے لڑاکا اور بمبار طیاروں، ہیلی کاپٹرز اور نگرانی کرنے والے ہوائی جہازوں کی یورپ کے جنوبی حصوں میں تعیناتی کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔

نارتھ اٹلانٹک کونسل کی یہ اہم میٹنگ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی طرف سے لیبیا کے خلاف ایک قرار داد کی منظوری کے بعد ہورہی ہے۔ اس قرارداد میں بین الاقوامی برادری کو لیبیا کی سویلین آبادی کی حفاظت کا حق تفویض کیا گیا ہے۔

NO FLASH UN Libyen Diplomatie Flugverbotszone

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی طرف سے بین الاقوامی برادری کو لیبیا کی سویلین آبادی کی حفاظت کا حق تفویض کیا گیا ہے

دوسری طرف امریکہ، یورپ، افریقہ اور عرب دنیا کے اہم رہنما پیرس میں آج ہفتے کے روز ایک ہنگامی اجلاس میں شریک ہورہے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد لیبیا کے حکمران معمر قذافی کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غوروخوض کرنا ہے۔

ادھر قذافی حکومت کے باغیوں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ قذافی کی حامی فوجیں بن غازی میں داخل ہوگئی ہیں۔ باغیوں کے فوجی ترجمان خالد السائح نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا،’’ قذافی کی فوجیں مغرب کی جانب سے بن غازی میں داخل ہوگئی ہیں، مغربی طاقتیں کہاں ہیں؟ وہ تو کہہ رہے تھے کہ وہ چند گھنٹوں میں کارروائی کرسکتے ہیں۔‘‘

دوسری طرف لیبیا کی حکومت کی طرف سے ایسے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کی فوجیں بن غازی کے ارد گرد کوئی کارروائی نہیں کررہیں۔ ایک حکومتی ترجمان کے مطابق حکومتی فوجیں نہ صرف نوفلائی زون اور جنگ بندی کی پابندی کررہی ہیں بلکہ باغیوں کی طرف سے ان پر حملے بھی کیے جارہے ہیں۔

NATO Hauptquartier

برسلز میں موجود نیٹو حکام کے مطابق 'نارتھ اٹلانٹک کونسل' جلد ہی آپریشن شروع کرنے کا حکم جاری کرسکتی ہے

ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ باغیوں نے قذافی کی حامی فوج کا ایک جنگی جہاز مار گرایا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہفتے کی صبح یہ جہاز بن غازی کے نواح میں گر کر تباہ ہوا۔

لیبیا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کے لیے فرانس میں ہونے والی ملاقات سے قبل فرانسیسی حکومتی ذرائع نے بتایا: ’’تمام ضروری تیاریاں مکمل ہیں اور اب صرف سیاسی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ یہ بات اب واضح ہے کہ ہمیں فوری فیصلہ کرنا ہوگا۔"

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس