1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی حکومت پر یورپی یونین کی پابندیاں

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے مشترکہ طور پر زور دیا ہے کہ لیبیا کی حکومت پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے مغربی ممالک کا ایک خصوصی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

default

دریں اثناء امریکہ کا ایک جنگی بحری بیڑہ لیبیا کی سمندری حدود کے قریب آتا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ لندن کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لیبیا میں نو فلائی زون کے قیام کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہاں شہریوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کو روکا جا سکے۔ کیمرون نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’ہمیں ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرنا چاہیے جو اپنے ہی عوام کے خلاف فوجی کارروائیاں کرے۔‘

دریں اثناء امریکہ اور یورپی یونین کے بعد کینیڈا نے بھی لیبیا کی حکومت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم کینیڈا کے وزیر خارجہ لارنس کینن نے نو فلائی زون سے متعلق تجویز کو ناپختہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’نو فلائی زون کے حوالے سے اتحادی ممالک کے مابین کوئی سمجھوتہ ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ ہمارے پاس ابھی تک کوئی زیادہ معلومات نہیں ہیں۔‘

Muammar al-Gaddafi Libyen Rede Ansprache NO FLASH

لیبیا کے رہنما کرنل معمر القذافی

اس سے قبل پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے لیبیا کی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق رائے کر لیا۔ اس حوالے سے معمر قذافی اور ان کے پچیس ساتھیوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ ان کے اثاثے منمجد کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا۔ یورپی یونین کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر کہا کہ اب لیبیا کو عسکری ساز و سامان بھی مہیا نہیں کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اب لیبیا کو آنسو گیس اور مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے استعمال ہونے والا دیگر سامان بھی فراہم نہیں کیا جائےگا۔

وفاقی جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے جنیوا میں اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ 60 دنوں کے لیے لیبیا کو ہر قسم کی مالی ادائیگیاں روک دینے کی تجویز پیش کریں گے تاکہ لیبیا کی مزید رقوم قذافی اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں نہ جائیں۔

دوسری طرف امریکہ نے قذافی اور ان کے قریبی ساتھیوں کے تیس بلین ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی بحری افواج بحیرہء روم کے علاقے میں لیبیا کی سمندری حدود کے بہت قریب آ چکی ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس