1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی حکومتی فوج کا زاویہ شہر پر دوسرا حملہ

لیبیا کی حکومتی فورسز نے ہفتہ کو زاویہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دوسرا بڑا حملہ کیا۔ اس حملے میں ٹینکوں سمیت بھاری توپ خانے کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

default

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومتی ٹینک اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو بمباری کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ زاویہ کے ایک رہائشی ابو عقیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ٹینکوں نے ہفتہ کو متعدد گھروں سمیت ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا، جس میں بے شمار افراد پناہ لیے ہوئے تھے، ’ہم اب تک کسی کی مدد نہیں کر پائے، کیونکہ باہر شدید گولہ باری جاری ہے۔‘

زاویہ ہی کے ایک اور رہائشی نے روئٹرز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ تقریبا 20 ٹینک شہر میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں۔

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران قذافی کی افواج کا زاویہ شہر پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل سرکاری فوجوں نے ہفتہ کی صبح بھی زاویہ پر حملہ کیا تھا، تاہم باغیوں نے وہ حملہ ناکام بنا کر فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق صبح سویرے کیے گئے حملے میں فوج کی طرف سے عام شہریوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا، اور انہیں گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔

Libyen Soldaten

لیبیا کے فوجی زاویہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں

دارالحکومت طرابلس سے 50 کلومیٹر دور واقع شہر زاویہ میں باغی فوج کے ترجمان یوسف شاگن نے روئٹرز کو بتایا، ’ہم نے تین اے پی سی اور دو ٹینک فوج کے خلاف دو گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد اپنے قبضے میں لیے ہیں۔‘

ہسپتال ذرائع کے مطابق دو روز میں زاویہ میں سرکاری فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ساٹھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

تیونس اور مصر میں شدید عوامی مظاہروں کے نتیجے میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے رہنماؤں زین الدین بن علی اور حسنی مبارک کی حکومتوں کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں بھی قذافی مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا، تاہم یہاں قذافی کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بدترین استعمال کے باعث ملکی افواج اور سرکاری مشینری بھی دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ گزشتہ ماہ فروری کے وسط سے شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک سنیکڑوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں تاہم انٹرنیٹ اور ٹیلی فون رابطوں میں تعطل کے باعث ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا ابھی تک اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس