لیبیا کی ’جہنم‘، مہاجرت کی بڑی وجہ | مہاجرین کا بحران | DW | 28.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لیبیا کی ’جہنم‘، مہاجرت کی بڑی وجہ

لیبیا میں تارکین وطن کو درپیش خوف ناک حالات اور بدترین برتاؤ ان کی جانب سے جان جوکھوں میں ڈال کر یورپ پہنچنے کی کوشش کی کلیدی وجوہات ہیں۔

انسانی بنیادوں پر امداد کرنے والے اداروں اور سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والے مہاجرین کا کہنا ہے کہ لیبیا میں تارکین وطن کو سنگین تشدد اور بدترین انسانی حالات کا سامنا ہے اور یہی ان تارکین وطن کی جانب سے بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

یورپ حکام بحیرہء روم میں گشت کر کے انسانوں کے اسمگلروں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم سن 2015 اور 2016 کے مقابلے میں رواں برس کے آغاز سے اب تک لیبیا سے اطالوی جزائر کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تمام تر کوشش کے باوجود لیبیا سے غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد ماضی کے مقابلے میں 50 تا 70 فیصد بڑھی ہے۔

حالیہ چند دنوں میں بحیرہء روم میں ریسکیو سرگرمیوں کے ذریعے ستائیس سو سے زائد افراد کو بچایا گیا ہے۔ ان افراد کے ساتھ اب رواں برس لیبیا سے بحیرہ روم عبور کر کے یورپی ساحلوں کا رخ کرنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد قریب ساڑھے تیرہ ہزار ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں بحیرہء روم کی موجوں کی نذر ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک ساڑھے تین سو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس اس عرصے میں یہ تعداد ایک سو تھی۔ ابھی ایک ہفتہ قبل طرابلس کے قریبی ساحلی علاقے میں 74 تارکین وطن کی لاشیں سمندر نے اُگل دی تھیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے ترجمان فلاویو گیاکومو کا کہنا ہے، ’’تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی وجہ لیبیا میں خراب معیار زندگی ہے، کیوں کہ وہاں صورت حال دن بہ دن خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔‘‘

Rettungsaktion von Ärzte ohne Grenzen Mittelmeer (DW/K. Zurutuza)

لیبیا میں تارکین وطن شدید تشدد کا سامنا کرتے ہیں

گزشتہ ہفتے ریسکیو کیے جانے والے ایک تارک وطن سائرون کامارا نے بتایا تھا کہ لیبیا میں انسانوں کے اسمگلروں کی جانب سے کس طرح مہاجرین کو شدید اذیت اور تشدد سے دوچار کیا جاتا ہے۔

گنی سے تعلق رکھنے والے اس تارک وطن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک رپورٹر کو بتایا، ’’وہاں لوگ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ ہمیں رسی کے ذریعے الٹا لٹکا دیا جاتا تھا۔ وہاں زندگی آسان نہیں تھی۔ ہر روز وہاں لوگ مرتے ہیں۔‘‘

تارکین وطن کا کہنا ہے کہ وہاں انسانوں کے اسمگلر مہاجرین پر تشدد کر کے انہیں اپنے اہل خانہ کو فون کر کے پیسے بھیجنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک تارک وطن کے مطابق، ’’جب آپ نمبر ڈائل کرتے ہیں، یہ لوگ آپ کو پیٹنا شروع کر دیتے ہیں، تاکہ آپ کے والدین آپ کی چیخیں سنیں۔ وہاں پانچ افراد آپ کو پیٹتے چلے جاتے ہیں اور تب تک پیٹتے چلے جاتے ہیں جب تک آپ بے ہوش نہ ہو جائیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے 13 افریقی باشندے ایک کنٹینر میں مردے پائے گئے تھے۔ غیرقانونی طور پر اس کنٹینر میں چھپائے گئے ان تارکین وطن کو اس کنٹینر کی ترسیل سے چار روز قبل اس میں بند کر دیا گیا تھا اور یہ افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔