1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی جانب سے باغیوں کے خلاف فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان

اقوام متحدہ کے ادارے سکیورٹی کونسل کی جانب سے لیبیا کے خلاف فوجی ایکشن اور نو فلائی زون کی قرارداد کی منظوری کے بعد اب لیبیا کے وزیر خارجہ نے باغیوں کے خلاف ہر قسم کے فوجی آپریشن کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

default

لیبیا کی جانب سے باغیوں کے خلاف جاری جنگی کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ جنگ بندی اور ہر قسم کے فوجی آپریشن کو بند کرنے کا اعلان لیبیا کے وزیر خارجہ موسیٰ قوسیٰ کی جانب سے سامنے آ یا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ لیبیا اقوام متحدہ کا ممبر ملک ہے اور اس کی قرارداد پر پوری طرح عمل کرے گا۔

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود لیبیا کے مغربی قصبوں زنتان، نولوط، اور مصراتہ میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ یہ تمام مقامات باغیوں کی چڑھائی کے دنوں میں سرکاری کنٹرول سے باہر ہو گئے تھے۔ باغیوں سے بریقہ واپس لینے اور راس لانوف پر حکومتی افواج کا دوبارہ قبضہ ہونے کا بتایا جا چکا ہے۔ بن غازی کے ہوائی اڈے کو قذافی کی حامی فضائیہ کی جانب سے گزشتہ روز نشانہ بنایا گیا تھا۔ طرابلس میں حکام کا خیال ہے کہ باغیوںپر قابو پانے کے لیے بن غازی کے گردو نواح میں سرکاری فوج اتوار کی صبح تک پہنچ سکتی ہے۔

قذافی کی حامی افواج آہستہ آہستہ باغیوں کو بھاری اسلحہ کے استعمال سے کمزور کرتی چلی جا رہی ہیں۔ مصراتہ پر قذافی کی حامی فوج نے ٹینکوں اور بھاری توپ خانے کے ساتھ چڑھائی کر رکھی ہے۔ جمعہ کو علی الصبح سےہی شہر پر شدید گولہ باری کی اطلاعات ہیں۔

باغیوں کے مطابق مصراتہ پرقذافی کی حامی فوج اور فضائیہ کی جانب سے شدید بمباری اور گولہ باری سے سارا شہر کھنڈر بنتا جا رہا ہے۔ باغیوں کے ترجمان سعدون کے مطابق شہر کے تمام لوگ ان کے ساتھ مل کر مصراتہ کے دفاع میں مصروف ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن نے گزشتہ روز کہا تھا کہ مصراتہ پر قبضے کا فوجی مشن جمعہ کے روز صبح کی نماز تک مکمل ہو جائے گا۔ تاحال ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ العربیہ ٹیلی وژن کے مطابق جمعہ کے صبح سے جاری شیلنگ سے شہر میں بے شمار ہلاکتوں کا امکان ہے۔

Pro-Gaddafi-Kämpfer zeigen sich siegreich Flash-Galerie

قذافی کے حامی فوجی دستے

اقوام متحدہ کی جانب سے فوجی ایکشن کی قرارداد کی منظوری کے بعد لیبیا کے لیڈر معمر قذافی نے کہا ہے کہ لیبیا کے اندر غیر ملکی افواج کے لیے ایک جہنم منتظر ہے۔ ان کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے بھی قرارداد کی منظوری کے بعد کہا تھا کہ لیبیا غیر ملکی فوجی ایکشن کے سامنے قطعاً نہیں گبھرائے گا۔

اس دوران یورپی ایئر ٹریفک کنٹرول ایجنسی کے اعلامیے کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی منظوری کے بعد لیبیا نے اپنی فضائی حدود ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردی ہے۔ سکیورٹی کونسل نے جمعرات کے روز لیبیا کی فضائی حدود کو نو فلائی زون قرار دے دیا ہے۔ یورپی ائیرر ٹریفک ایجنسی کے مطابق طرابلس کے ہوائی اڈے کے کنٹرول ٹاور نے پروازوں کی آمد کو قبول کرنا چھوڑ دیا ہے۔

دوسری جانب فرانس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ لیبیا پر فضائی حملے کے لیے تیار ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ایکشن کا مقصد شمالی افریقہ پر ہرگز قبضہ نہیں ہے۔ فرانسیسی وزیراعظم فیوں اپنی حکومت کے دفاعی مشیروں کے ساتھ خصوصی صلاح مشورے میں مصروف ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی جمعہ کے روز شروع ہو سکتی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی جمعہ کو اپنی کابینہ کے اجلاس میں لیبیا کی صورت حال پر مشورے کیے۔ برطانوی وزیر اعظم نے لیبیا کے خلاف انٹرنیشنل آپریشن میں اپنی فوجوں کی شمولیت کی تصدیق کر دی ہے۔ برطانوی ہاؤس آف کامنز میں لیبیا کی صورت حال پر بحث اگلے ہفتے کی جائے گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM