1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لیبیا کوسٹ گارڈ نےجرمن فلاحی ادارے کی کشتی پکڑ لی

لیبیا کے ساحلی محافظ دستے نے جرمنی کی ایک امدادی تنظیم ’سی آئی‘ کی ایک کشتی کے لیبیا کی سمندری حدود میں داخل ہونے پر اس میں موجود دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ’سی آئی‘ چار ماہ میں چار ہزار افرد کو بچا چکی ہے۔

Rostock Kutter der Regensburger Flüchtlingsinitiative Sea Eye

غیر سرکاری فلاحی ادارے سی آئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ میں اس نے مختلف امدادی کارروائیوں میں لگ بھگ چار ہزار افراد کو بچایا ہے

لیبیا کی کوسٹ گارڈ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ جرمن امدادی کشتی میں موجود افراد کو اس لیے حراست میں لیا گیا ہے کیونکہ ان کی کشتی تیونس سے لیبیا کی بحری سرحد میں بغیر اجازت داخل ہوئی۔ یہ امدادی کشتی امدادی ادارے ’سی آئی ‘ کی ملکیت ہے اور بحیرہ ء روم کے راستے یورپ جانے والے تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچانے کے مشن پر مامور ہے۔ فلاحی ادارے ’سی آئی ‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان کی یہ نئی تیز رفتارکشتی تیونس کے شہر زارزس سے لیبیا کے متعلقہ ساحلی علاقے میں فوری مدد کے لیے کارروائیاں کرتی ہے۔ مزید یہ کہ سپیڈ بوٹ امدادی مشن پر مامور اپنے بڑے جہاز سے علیحدہ ہو کر سفر کر رہی تھی۔ ’سی آئی‘ کے مطابق وہ جہاز جس کے ماتحت یہ امدادی کشتی ہے، مالٹا سے لیبیا کے ساحلوں کی سمت رواں دواں ہے۔ غیر سرکاری فلاحی ادارے سی آئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ میں اس نے مختلف امدادی کارروائیوں میں لگ بھگ چار ہزار افراد کو بچایا ہے۔ اٹلی کی وزارت داخلہ کے مطابق رواں برس اب تک قریب بارہ لاکھ پچاس ہزار تارکین وطن نے سمندری راستے کے ذریعے لیبیا سے یورپ پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق افریقی ممالک سے ہے جنہوں نے لیبیا کے ساحلوں کو استعمال کر کے شکستہ کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کی۔

DW.COM