1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کا مسئلہ سیاسی وسفارتی ذریعے سے حل کر لیں گے، سارکوزی

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے لیبیا کے مسئلے کا غیر فوجی حل تلاش کرنے کی کوششوں کا اشارہ دیا ہے۔ ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی لیبیا میں نوفلائی زون کے نفاذ کے لیے آپریشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے کہا ہے کہ فرانس اور برطانیہ لیبیا کے بحران کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ منگل 29 مارچ کو لندن میں طے شدہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’یقینی طور پر فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ پیشرفت سے واضح ہو جائے گا کہ لیبیا کے مسئلے کا محض فوجی حل ہی نہیں ہے بلکہ سیاسی اور سفارتی حل بھی ہوسکتا ہے۔‘‘

لندن میں منگل کو ہونے والی ملاقات کو لیبیا کے معاملے پر رابطہ گروپ کا نام دیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں لیبیا میں جاری اتحادی فوجی آپریشن کے حوالے سے برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے علاوہ افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر یورپی اقوام کو قریب لانا ہے۔

Belgien NATO Generalsekretär Anders Fogh Rasmussen in Brüssel

’نیٹواتحادیوں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ لیبیا پر نوفلائی زون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے: راسموسن

دوسری طرف برسلز میں ہونے والی یورپی سمٹ کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا : ’’یہ لیبیا کے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک کا مستقبل طے کریں۔‘‘

قبل ازیں نیٹو کے رکن ممالک لیبیا میں نو فلائی زون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے متفق ہو گئے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے کہا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ سے آگے نہیں جا سکتا، جبکہ نیٹو فورسز اپنا دفاع کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لیبیا میں اتحادی فورسز بھی آپریشن کریں گی اور نیٹو بھی۔ راسموسن نے کہا: ’’نیٹواتحادیوں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ لیبیا پر نوفلائی زون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔‘‘

خیال رہے کہ ترکی بھی اس منصوبے کی حمایت کر چکا ہے۔ اس سے قبل ترکی نے اقوام متحدہ کی طرف سے لیبیا میں نو فلائی زون کی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد آپریشنل کمان اتحادی افواج کے حوالے کرنے پر تشویش ظاہر کی تھی۔

Militäraktion gegen Gaddafi begonnen

اتحادی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لیبیا پر 16 ٹوما ہاک میزائل داغے ہیں

دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہےکہ متحدہ عرب امارت نے بھی لیبیا کے خلاف جاری آپریشن میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتحادی افواج میں شامل ہورہا ہے اور لیبیا کے عوام کے تحفظ اور نوفلائی زون کے نفاذ کے لیے اپنے جہاز بھیج رہا ہے۔ ہم اس اہم پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘

ادھر کرنل قذافی کی حامی فورسز کے حملے روکنے کے لیے اتحادی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 16 ٹوما ہاک میزائل داغے ہیں، جبکہ اسی دوران 153 پروازیں بھی کی گئیں۔ امریکی وائس ایڈمرل Bill Gortney کا کہنا ہے کہ معمر قذافی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف 38 بحری جہازوں کے علاوہ 350 سے زائد جنگی ہوائی جہاز بھی سرگرم عمل ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس