لیبیا: پولیس اسکول پر خودکش حملہ، کم از کم 50 ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 07.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: پولیس اسکول پر خودکش حملہ، کم از کم 50 ہلاک

لیبیا کے مغربی شہر زلیتن میں پولیس کے ایک ٹریننگ سینٹر پر ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک سو سے بھی زائد بتائی جا رہی ہے۔

انتشار زدہ ملک لیبیا میں ہونے والا یہ حملہ اب تک کے بدترین حملوں میں سے ایک ہے۔ ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک پولیس ٹریننگ سینٹر سے ٹکرایا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ٹرک پولیس سینٹر میں پانی لانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ساحلی شہر زلیتن دارالحکومت طرابلس سے تقریباﹰ ایک سو ستر کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

ایک عینی شاہد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے، ’’جس وقت حملہ کیا گیا، اس وقت ٹریننگ سینٹر کے اندر کم از کم تین سو افراد موجود تھے۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد کوسٹ گارڈز کی تھی۔‘‘

لیبیا میں وزارت صحت کے ترجمان عمار محمد عمار کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں پچاس سے پچپن افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد کم از کم ایک سو ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق زخمیوں کا علاج مختلف ہسپتالوں میں کیا جا رہا ہے جبکہ لوگوں سے فوری طور پر خون عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروپ یا تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیبیا میں متعدد حریف اور قبائلی گروپوں کے ساتھ ساتھ جہادی تنظیمیں بھی پرتشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

زلیتن ہسپتال کے ایک ترجمان معمر کادی کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہسپتال میں ابھی تک چالیس لاشیں لائی جا چکی ہیں جبکہ لائے جانے والے زخمیوں کی تعداد ستر کے قریب ہے۔‘‘ اس ترجمان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے جبکہ دھماکے کے متاثرین کو طرابلس اور مصراتہ کے ہسپتالوں میں بھی لے جایا جا رہا ہے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب مارٹن کوبلر نے اس دھماکے مذمت کرتے ہوئے قومی اتحاد کی اپیل کی ہے۔ گزشتہ تقریباﹰ دو برسوں سے لیبیا میں دو منقسم اور حریف حکومتوں کے مابین خونی لڑائی جاری ہے، جس کے نتیجے میں ابھی تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ سن دو ہزار گیارہ میں معمر قذافی کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت میں ہزاروں رضاکار جنگجوؤں کو مسلح کیا گیا تھا اور اس وقت ان گروہوں کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اُس وقت اِن باغیوں کو نہ صرف چھوٹے بلکہ بھاری ہتھیار بھی فراہم کیے گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لیبیا کے مسلح گروپوں کے پاس اس قدر اسلحہ موجود ہے کہ وہ آئندہ کئی برسوں تک لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

امریکی شہر نیویارک میں قائم مشاورتی انٹیلی جنس تھنک ٹینک ’سوفن‘ کے تجزیہ کار پیٹرک سکنر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک برس سے لیبیا میں جہادی جنگجوؤں کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے جبکہ ملک دو حکومتوں کے بجائے مقامی قبائل میں بھی تقسیم ہوتا جا رہا ہے، ’’لیبیا میں اس وقت علاقائی ممالک بھی اپنے حمایتی گروپوں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

ان کے علاوہ بن غازی میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے وابستہ گروپ بھی موجود ہے جبکہ ملک میں پائی جانے والی سیاسی تقسیم اور لاقانونیت اس افراتفری میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہے جبکہ یہ ملک شمالی افریقہ کے جہادیوں کے لیے بھی مقناطیس بنتا جا رہا ہے۔