1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا پر نیٹو اور یورپی یونین کے دباؤ میں اضافہ

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور یورپی یونین نے لیبیا میں جنگی جہازوں کی مدد سے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کی روک تھام کے لیے ممکنہ طور پر ’نو فلائی زون‘ کے نفاذ کی تیاری شروع کر دی ہیں۔

default

اس سے قبل 27 ممالک کے بلاک یورپی یونین نے طرابلس انتظامیہ کے خلاف سخت ترین پابندیوں پر اتفاق رائے ظاہر کیا۔ ان پابندیوں میں لیبیا کے لیے اسلحے کی فروخت پر پابندی، قذافی اور ان کے ساتھیوں کے اثاثوں کو منجمد کرنا اور ان کے یورپی یونین میں داخلے پر پابندیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طرابلس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیے جانے والے آلات پر بھی پابندی پر اتفاق ظاہر کیا گیا ہے، تاکہ سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف ان آلات کے استعمال سے باز رہیں۔

سفارتی ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ یورپی یونین کی طرف سے تجوزہ کردہ ان پابندیوں کی حتمی منظوری اگلے ہفتے کے اختتام تک ہی عمل میں آ سکتی ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ اثاثہ جات کے انجماد کی یہ پابندیاں لیبیا کی کن شخصیات کے خلاف عائد کی جا سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تفصیلات ظاہر کرنے سے سرمایے کی تیزی سے منتقلی عمل میں آ سکتی ہے، جس کی وجہ سے ان معلومات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی حکومت نے بھی عالمی بینکوں کو لیبیا کے سیاسی رہنماؤں کے بینک کھاتوں اور سرمایے کی منتقلی پر نگاہ رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

Treffen der EU Verteidigungsminister in Ungarn Rasmussen

نیٹو کے سربراہ راسموسن صحافیوں سے گفتگو کے دوران

یورپی یونین کی طرف سے طرابلس کے خلاف پابندیوں پر اتفاق رائے کے ساتھ ساتھ لیبیا سے غیرملکیوں کے انخلا ءکے عمل کا جائزہ لینے کے لیے نیٹو وزرائے دفاع کا اجلاس بھی ہنگری کے شہر گوڈولو میں منعقد ہوا۔

اس اجلاس کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ آیا نیٹو لیبیا کے خلاف کسی فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے، تو راسموسن نے جواب میں کہا کہ اس وقت وہ ان تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے، ’میرے خیال میں اس وقت پہلی ترجیح وہاں موجود غیر ملکی افراد کا انخلاء اور لیبیا کی عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہونی چاہیے۔‘

واضح رہے کہ لیبیا میں ان مظاہروں کے بعد ہزاروں غیرملکی اپنے وطن لوٹنے کے لیے منتظر ہیں۔ عوامی مظاہروں اور سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے آغاز کے وقت لیبیا میں 36 سو یورپی شہری موجود تھے۔ جمعے کے روز جرمنی، برطانیہ اور یونان سمیت کئی یورپی ممالک کی طرف سے متعدد ہوائی اور سمندری جہازوں کے ذریعے شہریوں کے انخلاء کا عمل جاری رکھا گیا۔

راسموسن نے کہا کہ 28 رکنی نیٹو تمام رکن ممالک کے اشتراک سے لیبیا سے اپنے شہریوں کے انخلاء کے عمل میں مشترکہ طور پر مصروف ہے۔ راسموسن نے نیٹو کی فیصلہ ساز باڈی نارتھ اٹلانٹک کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات