1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'لیبیا پر حملہ کیا تو پچھتاؤ گے': قذافی کا پیغام

لیبیا کے حکمران معمر قذ‌افی نے امریکی صدر باراک اوباما، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کمیرون، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے نام فوری پیغامات بھیجے ہیں۔

default

معمر قذافی کی طرف سے مغربی طاقتوں کو بھیجے گئے فوری پیغامات میں لیبیا کے خلاف کارروائی سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیبیا کے ایک حکومتی ترجمان مُوسیٰ ابراہیم نے امریکی صدر، برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر کے نام معمرقذافی کا بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے:"آپ کو کسی طور یہ حق حاصل نہیں ہے کہ آپ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کریں۔ آپ کو اس مداخلت کا حق کس نے دیا ہے؟ اگر ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کی گئی تو اس پر آپ پچھتائیں گے۔"

NO FLASH UN Libyen Diplomatie Flugverbotszone

سلامتی کونسل کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لیبیا میں نوفلائی زون قائم کرنے کا فیصلہ کرے، قذافی

لیبیا کے حکومتی ترجمان نے امریکی صدر باراک اوباما کے نام معمر قذافی کے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ لیبیا کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کے حوالے سے اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لیبیا میں نوفلائی زون قائم کرنے کا فیصلہ کرے۔ قذافی نے اس فیصلے کو ناانصافی اور کُھلی جارحیت قرار دیا ہے۔

Krieg in Libyen

امریکی صدر باراک اوباما لیبیا کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے

مغربی ممالک کے رہنماؤں کے نام معمر قذافی کے پیغام میں مزید کہا گیا ہے: "لیبیا کے عوام میرے ساتھ ہیں اور یہ میرے لیے مرنے کو تیار ہیں۔" قذافی کے پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لیبیا میں القاعدہ کا مقابلہ کررہے ہیں۔

ادھر پیرس میں لیبیا کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کے لیے یورپی یونین، امریکہ اور عرب لیگ کے رہنماؤں کے اہم اجلاس سے قبل امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن،برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمروں اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی ملاقات ہورہی ہے۔ امریکی حکام کےمطابق اجلاس سے قریب ایک گھنٹہ قبل یہ ملاقات عالمی وقت کے مطابق 11:30 پر متوقع ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس