1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا پر حملہ، چین کی طرف سے کڑی مذمت

چین نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے لیبیا پر حملے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ چین کے مطابق اس اقدام سے مشرق وُسطیٰ میں نئی ابتری پھیلے گی۔

default

چینی اخبار پیپلز ڈیلی میں، جسے حکمران کمیونسٹ پارٹی کا نمائندہ اخبار سمجھا جاتا ہے، لیبیا کے خلاف آپریشن کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ گوکہ چین نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لیبیا کے خلاف قرارداد کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی مگر چینی اخبار نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے لیبیا پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

چینی اخبار پیپلز ڈیلی نے لیبیا کے خلاف کارروائی کو سال 2003ء میں عراق کے خلاف کیے جانے والے حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ مغربی طاقتوں کی طرف سے دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔ اخبار لکھتا ہے:"عراق گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران خاک وخون کے ایک طوفان سے گزرا ہے اور اس کے عوام کی ناقابل بیان تکالیف ایک آئینہ اور انتباہ ہیں۔" اخبار اپنے تبصرے میں مزید لکھتا ہے:"افغانستان اور عراق کے بعد اب لیبیا پر حملہ، چند ممالک کی طرف سے خود مختار ممالک کے خلاف فوجی ایکشن کا تیسرا واقعہ ہے۔"

Flash-Galerie Libyen Frankreich Flugzeugträger Charles de Gaulle

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے لیبیا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، چینی اخبار

پیپلز ڈیلی میں یہ تبصرہ ژونگ شینگ کے قلمی نام سے چھپا ہے، جس کا چینی زبان میں مطلب ہے، 'مرکز کی آواز'۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخبار میں چھپنے والے یہ خیالات دراصل چین کی اعلیٰ قیادت کے ہی خیالات ہیں۔

دوسری طرف چینی وزارت خارجہ نے لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وزارت کی طرف سے آج پیر کے روز اعلان کیا گیا ہے کہ چینی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ رواں ہفتے کے دوران اسرائیل، لبنان، شام، قطر اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کریں گے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس