1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: وزیرِ خارجہ مستعفی، برطانیہ پہنچ گئے

برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق لیبیا کے وزیرِ خارجہ موسیٰ قصیٰ اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ وہ تیونس سے لندن پہنچے ہیں۔

default

مستعفی ہونے والے لیبیا کے وزیرِ خارجہ موسی قصیٰ

لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے لیے یہ ایک تازہ دھچکا ہے۔ موسیٰ قصیٰ ملک کے وہ سینیئر ترین عہدیدار تھے جنہوں نے قذافی کا ساتھ ایک ایسے وقت چھوڑ دیا ہے جب کہ قذافی اپنے گرتے ہوئے اقتدار کو سنبھالنے کی آخری کوششوں میں مصروف ہیں اور باغی ان کے شہر سرت کے قریب تر ہوتے ہونے کی کوششوں میں لگے ہیں۔

’دیگر ساتھی بھی عوامی امنگوں کا ساتھ دیں‘

برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کے گئے ایک بیان کے مطابق: ’ہم تصدیق کرتے ہیں کہ موسیٰ قصیٰ تیونس سے فارن بورو کے ہوائی اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے برطانیہ آئے ہیں اور انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ اپنے عہدہ چھوڑ رہے ہیں‘۔

Libyen Gaddafi Plakat in Misda

قذافی کے دوسرے ساتھی بھی نوشتہِ دیوار پڑھ لیں، امریکہ

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موسیٰ قصیٰ قذافی حکومت کے سینیئر ترین عہدیداروں میں سے ایک تھے جن کا کام بین الاقوامی طور پر قذافی حکومت کی نمائندگی کرنا تھا، تاہم وہ اب یہ کام نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ: ’ہم چاہتے ہیں کہ قذافی کے دیگر ساتھی بھی اب قذافی کا ساتھ چھوڑ کر لیبیا کے لیے ایک بہتر مستقبل کا ساتھ دیں تاکہ لیبیا کے عوام کی امنگیں پوری ہو سکیں‘۔

ادھر امریکہ نے موسیٰ قصیٰ کے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قذافی کے ساتھی نوشتہِ دیوار پڑھ سکتے ہیں۔

اہم علاقوں پر قذافی کی فورسز کا دوبارہ قبضہ

ادھر لیبیا میں معمر قذافی کی حامی فورسز نے باغیوں کو دو سو کلومیٹر تک پیچھے دھکیل دیا ہے اور ان سے وہ علاقے چھڑوا لیے ہیں جن پر وہ چند روز قبل قابض ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ راس لانوف، عقیلہ اور بریقہ کو باغیوں کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے۔

Libyen Rebellen Ras Lanuf

کئی اہم علاقے باغیوں سے چھڑا لیے گئے ہیں

دوسری جانب مغربی ممالک باغیوں کو مسلح کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکہ کے علاوہ برطانیہ نے بھی باغیوں کو مسلح کرنے کے عمل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔ دوسری جانب چین اور روس نے اس حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔

لیبیا میں باغیوں کی نمائندہ کونسل نے بین الاقوامی برادری سے اسلحے کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔ اس نمائندہ کونسل کے ایک ترجمان محمد شمام کے مطابق ہتھیار ملنے کی صورت میں وہ بہت جلد قذافی حکومت کا خاتمہ کرسکتے ہیں: ’’ہمارے پاس ہتھیار نہیں ہیں، ورنہ ہم قذافی کا خاتمہ چند دنوں میں کردیتے، مگر ہمارے پاس اسلحہ ہی نہیں ہے۔ ہم اسلحے کی نسبت سیاسی حمایت کی زیادہ اپیل کرتے ہیں، لیکن اگر ہمارے پاس دونوں چیزیں ہوں گی تو یہ بہت زبردست ہوگا۔‘‘

امریکی صد ر باراک اوباما نے باغیوں کی اس اپیل کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اس اپیل پر سوچ کر جواب دے گی۔ دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے لیبیا میں حکومت مخالفین کو ہتھیار فراہم کرنے کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں آج بدھ کے روز پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ باغیوں کو اسلحہ فراہم کیے جانے کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ امریکی سی آئی اے کے ایجنٹس لیبیا میں صورتِ حال کا جائزہ لینے وہاں پائے جا رہے ہیں۔

چین اور روس کی تشویش

ادھر چین کے صدر ہوجن تاؤ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب نکولا سارکوزی کو لیبیا پرکی جانے والی کارروائی کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ سارکوزی کے دورہ ایشیا کے آغاز پر آج بدھ کے روز ہونے والی ایک ملاقات میں چینی صدر کا کہنا تھا کہ اگراتحادی افواج کے حملے جاری رہے تو یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تشدد روکنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پیش کی گئی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM