1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں 173 ہلاک، ہیومن رائٹس واچ

ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اب تک 173 حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف یمن اور بحرین کے بعد اب مراکش میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

default

ہیومن رائٹس واچ نے لیبیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاک شدگان کی یہ تعداد ہسپتال ذرائع اورعینی شاہدین کے حوالے سے جاری کی ہے تاہم اس عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ لیبیا میں کمیونیکیشن مسائل کے باعث وہاں کی حقیقی تصویر کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دیگر غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد 200 کے قریب ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بن غازی شہر کے الجلال ہپستال کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوارکی درمیانی شب اس ہسپتال میں مزید 20 افراد کی لاشیں لائی گئیں جبکہ ہسپتال میں شدید زخمی حالت میں لائے گئے افراد کی تعداد 25 تھی،’ان میں زیادہ تر افراد سر، گردن اور کندھوں میں گولیاں کا نشانہ بنے ہیں۔‘

USA Demonstration Solidarität Libyen FLash-Galerie

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق لیبیا میں موجودہ حالات ممکنہ طور پر ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں

دوسری جانب لیبیا کی حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کمیونیکیشن معطل کر دی ہے جبکہ ٹیلی فون کے نظام میں بھی رخنہ ڈال دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ لیبیا سے اطلاعات کے حصول میں انتہائی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق لیبیا میں موجودہ حالات ممکنہ طور پر ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ دریں اثناء لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں اتوار کے روز بھی حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔

بن غازی شہر کے ایک رہائشی نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ شہر کی گلیاں ایک جنگ کا منظر پیش کر رہی ہیں اور مظاہرین کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کی جا رہی ہے،’اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، خدا ان پر رحم کرے۔‘

بن غازی کے ایک اور رہائشی کے مطابق شہر کی ایک عدالت کے سامنے سینکڑوں مظاہرین سراپا احتجاج تھے، جب سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔

دریں اثناء لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ قذافی یا ان کے خاندان کا کوئی فرد لیبیا چھوڑنے پر غور نہیں کر رہا، ’قذافی کے ایسے اہل خانہ، جو ملک سے باہر تھے، اب وہ بھی ملک میں واپس آ گئے ہیں۔ قذافی اپنی آخری سانس تک لیبیا ہی میں رہیں گے۔‘

تیونس اور مصر میں عوامی احتجاج کے بعد شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی کئی عرب ریاستوں میں حکومت مخالف مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ بحرین میں شیعہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے وہ مذاکراتی عمل کا حصہ ہر گز نہیں بنیں گے۔ ملک میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اس وقت بھی دارالحکومت مناما کے پرل اسکوائر پر ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں۔

Flash-Galerie Unruhen Proteste in Nahost Libyen Pro-Gaddafi Anhänger

تنونس اور مصر میں عوامی احتجاج کے بعد شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی کئی عرب ریاستوں میں حکومت مخالف مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں

دوسری طرف یمن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے عدن نامی شہر سےعلیحدگی پسند گروپ کے ایک اہم رہنما کو گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت صنعاء میں مسلسل آٹھویں روز بھی حکومت مخالف مظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔

اسی طرح اب ان مظاہروں کا سلسلہ مراکش بھی پہنچ گیا ہے، جہاں دارالحکومت میں ہزاروں افراد نے کنک محمد سے ملکی اقتدار سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔ رباط کے علاوہ کاسابلانکا میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM