1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں ہلاک شدگان کی تعداد میں مزید اضافہ

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک شدگان کی تعداد دو سو اور چار سو کے درمیان ہے۔

default

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق لیبیا میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون رابطوں میں تعطل کے باعث ہلاکتوں کی صحیح تعداد جاننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے عینی شاہدین اور ہسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ لیبیا میں کم از کم 233 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ تعداد طرابلس میں کل اتوار کے روز مظاہرین پر جنگی طیاروں سے کیے جانے والے مبینہ حملوں میں درجنوں ہلاکتوں سے پہلے تک کی تعداد تھی۔

Libyen Unruhen Proteste in Bengasi

بین غازی میں مظاہرین شہر کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں

اس سے قبل معمر قدافی سرکاری ٹی وی چینل پر نمودار ہوئے اور انہوں نے ملک سے اپنے فرار کی خبروں اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کو ’جھوٹ‘ قرار دیا۔

حکومت مخالف مظاہروں کے بعد پہلی مرتبہ ٹیلی وژن پر نمودار ہونے والے معمر قدافی نے کہا کہ ان کے ٹیلی وژن پر آنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہ وینزویلا میں نہیں بلکہ طرابلس میں ہیں۔ انہوں نےکہا کہ میڈیا رپورٹوں پر یقین نہ کیا جائے۔

دوسری جانب لیبیا سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پرتشدد کارروائیوں کے باعث ملک کے مشرقی شہر بن غازی کے ہوائی اڈے کا رن وے قابل استعمال نہیں رہا ہے۔ مصر کے وزیرخارجہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ رن وے تباہ ہو جانے کے بعد اب کوئی مسافر طیارہ بن غازی ایئر پورٹ پر نہیں اتر سکتا۔

دریں اثناء لیبیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے باعث ملکی فوج میں بھی تقسیم کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ گزشتہ روز لیبیا کی فضائیہ کے دو میراج F1 طیارے مالٹا میں اترے تھے۔ ان دونوں طیاروں کے پائلٹ کرنل تھے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں ان کے ہموطن مظاہرین پر بمباری کے احکامات دیے گئے تھے، جس پر وہ ملک سے فرار ہو گئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق فوج کے اعلیٰ افسران کے ایک گروپ نے فوج کو ’عوام کا ساتھ دینے کا مشورہ‘ بھی دیا ہے۔

Libyen No Flash

عوام قدافی سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں

ادھر بن غازی شہر سے شروع ہونے والے قدافی مخالف مظاہروں کا سلسلہ اب دارالحکومت طرابلس تک پھیل چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد مقامات پر قذافی کے حامی افراد اور سکیورٹی فورسز حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ شب سے طرابلس میں جاری شدید ترین بارش کے باعث منگل کی صبح ان جھڑپوں میں خاصی کمی دیکھی گئی۔ اس سے قبل مقامی باشندوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کی اطلاعات بھی دی تھیں۔

الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے متعدد شہروں میں جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر مظاہرین پر بمباری میں مصروف ہیں۔

ہنگاموں کے باعث طرابلس اور بن غازی جیسے شہروں میں عوام کو کھانے پینے کی اشیاء کی عدم دستیابی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے اور متعدد دکانوں پر عوام قطاریں بنائے اشیائے صرف کے حصول میں سرگرداں ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس