1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لیبیا میں پھنسے غیرملکی ورکرز کی پریشانی

ایشیا کے پسماندہ ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ورکرز لیبیا میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ لیبر گروپوں کا کہنا ہے کہ ایشیائی ممالک کی حکومتیں بحران زدہ اس عرب ریاست سے اپنے شہریوں کے انخلاء کے لیےکوشاں ہیں۔

default

خبررساں ادارے اے ایف پی نے لیبر گروپوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ لیبیا کے ان حالات سے روزگار کے لیے ایسے امیر ملکوں کا رخ کرنے والوں کی حالت زار کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان افراد کے حقوق کا وہاں کوئی تحفظ نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لیبیا میں غیرملکی ورکروں میں سے زیادہ ترکا تعلق بنگلہ دیش اور فلپائن سے ہے۔

فلپائن میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے سربراہ جیف جانسن نے اے ایف پی کو بتایا، ’بعض خوشحال ممالک ایسی صورت حال پر بہت جلد ردِعمل ظاہر کر سکتے ہیں، لیکن دوسرے ممالک کے لیے ایسا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔‘

خیال رہے کہ امریکہ، برطانیہ، چین اور جنوبی کوریا کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو لیبیا میں جاری خون ریزی سے بچانے کے لیے وہاں بحری اور ہوائی جہاز بھیجے۔ تاہم فلپائن اور بنگلہ دیش کے تقریباﹰ ایک لاکھ ورکرز وہاں سے نکلنے کے لیے مدد کے تاحال منتظر ہیں، جس کی وجہ ان کی حکومتوں کی ناکامی ہے۔

فلپائن کے صدرBenigno Aquino نے رواں ہفتے کہا تھا، ’ہمیں کچھ مسائل کا سامنا ہے، اگر ہم بھی امریکہ کی طرح امیر ہوتے تو شاید ہمارے بھی ہرجگہ قونصل خانے ہوتے۔‘

Proteste in Libyen Flüchtlinge

لیبیا میں ہزاروں غیرملکی ورکرز پھنسے ہوئے ہیں

فلپائنی صدرکا کہنا تھا کہ پھر بھی ان کی حکومت، جو ہوسکتا ہے، وہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب فلپائن کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ان کا ایک مشن لیبیا پہنچ گیا ہے، تاہم شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے چارٹرڈ پروازوں کا اہتمام تاحال نہیں ہو سکا۔

بیرون ممالک کام کرنے والے فلپائنی شہریوں کو معاونت فراہم کرنے والے گروپ Migrante International کے چیئرمین گیری مارنٹنیز کا کہنا ہے، ’اس معاملے پر اپنی حکومت کے ردعمل پر ہمیں بہت تشویش ہے اور ہم پریشان ہیں۔‘

دوسری جانب لیبیا میں پھنسے تقریباﹰ ساٹھ ہزار بنگلہ دیشی شہریوں کی حالت اس سے بھی خراب بتائی جا رہی ہے۔ جمعرات کو ڈھاکہ حکومت نے کہا تھا کہ اس کے پاس اپنے شہریوں کے انخلاء کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM