1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں نو فلائی زون: ’اقوام متحدہ حمایت کر سکتا ہے‘

اقوام متحدہ میں لیبیا کے نائب سفیر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ اس شمالی افریقی ملک میں عبوری قومی کونسل کی درخواست پر وہاں طاقت کے ذریعے نو فلائی زون کے قیام کی حمایت کر سکتا ہے۔

default

عرب ٹیلی وژن ادارے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں عالمی ادارے میں طرابلس کے نائب سفیر ابراہیم دباشی نے کہا کہ لیبیا میں قذافی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی قائم کردہ عبوری قومی کونسل اگر باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ سے درخواست کرے تو نیو یارک میں قائم یہ عالمی تنظیم لیبیا میں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ملکی فضائی حدود کو کلی یا جزوی طور پر ہر قسم کی پروازوں کے لیے ممنوع قرار دینے سے متعلق کسی قرارداد کی حمایت کر بھی سکتی ہے۔

ابراہیم دباشی بیرون ملک متعین لیبیا کے ان سفارت کاروں میں شامل ہیں، جنہوں نے معمر قذافی کی حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اس کی مخالف عوامی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ سب سے پہلے کیا تھا۔

Libyen Soldaten

لیبیا کی مسلح افواج کے اہلکار

دباشی نے الجزیرہ ٹیلی وژں کو بتایا کہ اگر لیبیا میں باغیوں کی عبوری عرصے کے لیے قائم کی گئی قومی کونسل اقوام متحدہ سے نو فلائی زون سے متعلق کوئی درخواست کرتی ہے، تو انہیں یقین ہے کہ اس درخواست پر عالمی ادارے کا رد عمل مثبت ہو گا اور یہ تنظیم ایسی کسی بھی فوری ضرورت کو بلا تاخیر محسوس بھی کرے گی۔

ابراہیم دباشی کے مطابق لیبیا کے عوام کو بیرونی دنیا اور عالمی برادری کی مدد سے جس پیشرفت کی فی الحال سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ یہی نو فلائی زون ہے، جو لیبیا میں اقتدار کی منتقلی تک عام شہریوں کی ہلاکتوں کو رکوانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مشرقی لیبیا میں قذافی کے مخالف باغیوں کی قائم کردہ نیشنل لیبین کونسل کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اس کونسل نے ابھی کل بدھ کے روز ہی اقوام متحدہ سے یہ درخواست کی تھی کہ عالمی ادارے کی تائید و حمایت سے لیبیا میں ایسے فضائی حملے کیے جانا چاہیئں، جن کا مقصد ’کرائے کے ان قاتلوں‘ کو نشانہ بنانا ہو، جو معمر قذافی کی طرف سے اپنے ہی ملک کے عوام کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

Malta britisches Schiff zurück aus Libyen

لیبیا سے غیر ملکیوں کے انخلاء کے لیے برطانوی بحریہ کا جہاز

مشرقی لیبیا میں مسلح باغیوں کی اس کونسل کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ لیبیا کی سرزمین پر کسی بھی دوسرے ملک کے فوجی دستوں کی موجودگی کی سختی سے مخالفت کی جائے گی کیونکہ ایسی کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت کا عسکری حوالے سے ضروری فضائی حملوں کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

لیبیا میں ممکنہ نو فلائی زون کے قیام کے بارے میں بین الاقوامی برادری ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ لازمی نہیں کہ ایسا کوئی فیصلہ عنقریب ہی کر بھی لیا جائے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس