1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’لیبیا میں نو فلائی زون‘عرب لیگ کی حمایت پرامریکی ردعمل

امریکہ نے عرب لیگ کی طرف سے لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے کی حمایت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی براری کی طرف سے معمر قذافی کے لیے یہ ایک اشارہ ہے کہ وہ اپنے عوام پر تشدد کرنا اب بند کر دیں۔

default

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب لیگ نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل عرب لیگ کے اجلاس کے بعد عرب رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ لیبیا میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے وہاں نو فلائی زون قائم کرے اور قذافی پر عالمی دباؤ میں اضافہ کرے۔

عرب رہنماؤں کے اس اعلان کے بعد امریکی حکام نے کہا ہے کہ معمر قذافی کی حکومت کو اب ایک اور کھلا پیغام موصول ہو چکا ہے کہ وہاں جاری تشدد اب بند ہو جانا چاہیے۔ اگرچہ امریکی صدر باراک اوباما قذافی پر زور دیتے آ رہے تھے کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں تاہم انہوں نے علاقائی رہنماؤں کی مشاورت کے بغیر وہاں فوجی طاقت کے استعمال کوخارج از امکان قرار دے رکھا تھا۔

Libya.jpg

قذافی پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے

ہفتے کے دن وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اب اس نئی صورتحال میں واشنگٹن حکومت لیبیا میں صورتحال بہتر بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں سے رابطوں میں تیزی لائے گی۔ یورپی ممالک اور امریکہ، قذافی پر مزید دباؤ ڈالنے سے قبل عرب رہنماؤں کی رضا مندی حاصل کرنا چاہتے تھے۔

ہفتے کے دن مصری دارالحکومت قاہرہ میں منعقد ہوئے عرب لیگ کے خصوصی اجلاس میں متفقہ طور پر اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنا ضروری ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ نے کہا کہ اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کی وجہ سے قذافی اقتدار میں رہنے کے لیے قانونی حیثیت کھو چکے ہیں۔

دوسری طرف امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرسکتے ہیں لیکن یہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ آیا یہ ایک ’دانا‘ عمل ہو گا یا نہیں،’یہ سوال نہیں کہ کیا ہم لیبیا میں نو فلائی زون قائم کر سکتے ہیں، یقینی طور پر ہم یہ کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہو گا؟ یہ بات اب سیاسی سطح پر پرکھی جا رہی ہے‘۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM