1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں نئی حکومت کی تشکیل اور سیاسی اختلافات

معمر قذافی کے حامی شہروں کی طرف سے مسلسل اور سخت مزاحمت نئی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔ نئی عبوری حکومت کی تشکیل میں تاخیر سے ممکنہ نئے سیاسی اختلافات کا اندازہ بھی با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔

default

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل

لیبیا کے عوام اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سیاست کے میدان میں نئے کھلاڑیوں کے آنے سے مختلف سیاسی گروپوں کے درمیان نئے تضادات سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث نئی عبوری حکومت کی تشکیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جمہوریت کے منتقلی کے اس عمل میں اسلام پسند اور سیکیولر قووتیں علیحٰدہ علیحٰدہ کھڑی نظر آتی ہیں۔

دوسری جانب شہروں اور دیہاتوں کے رہنما نئی حکومت میں اعلیٰ عہدوں کے خواہش مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھ ماہ تک جاری رہنے والی اس جنگ میں ان کو شدید مالی اور جانی نقصان پہنچا ہے جبکہ ان کے قبیلوں اور کمیونیٹیز کو تعمیر نو کے لیے فنڈز کی بھی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان اندرونی اختلافات کے باوجود مغربی دنیا اور عرب ملک ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہیں گے اور قومی عبوری کونسل کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

لیبیا میں جاری سیاسی بحث کے نتیجے میں ایک طرف تو امدادی اور فلاحی کاموں میں تاخیر سامنے آ رہی ہے تو دوسری جانب یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لیبیا اب کوئی پولیس اسٹیٹ نہیں رہا۔ چھ ماہ پہلے تک لیبیا کے ٹیلی وژن اور ریڈیو پر صرف قذافی اور اس کے حامیوں کے آوازیں سننے کو ملتی تھیں۔ طرابلس سے قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد گزشتہ روز پہلی مرتبہ ٹریفک پولیس کے اہلکار دیکھے گئے ہیں۔ طرابلس میں اس شعبے کے سربراہ انجینئر مصطفیٰ شاب بن رغیب کا کہنا ہے، ’’حکومت کی تشکیل میں تاخیر ہمارے لیے ضرور ی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ آہستہ ہو گا لیکن ہمیں اپنی رفتار سے چلنا ہو گا۔‘‘ خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم پہلے سے بہتر ہیں۔ ہم قذافی اور اس کے بیٹوں کو تختہ دار تک لے کر جائیں گے اور اس کے بعد ہم  سکھ کا سانس لیں سکیں گے لیکن سیاست کے لیے یہ بہت جلدی ہے۔‘‘

Flash-Galerie Rebellen Libyen

اتوار کے روز قومی عبوری کونسل کی طرف سے بنی ولید پر شدید حملہ کیا گیا تھا لیکن سینٹرل کمانڈ اور صفوں میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے فورسز کو ناکام واپس لوٹنا پڑا

اسی طرح لیبیا کے ایک ریٹائر ٹیچر کا کہنا ہے، ’’لیبیا کے نئے حکمرانوں کے درمیان مذاکرات میں تاخیر ایک عام بات ہے۔ قذافی نے ہمیں 40 برس تک جلایا ہے۔ اس نے تمام مفاہمتی دروازے بند کر رکھے تھے۔‘‘ لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور قومی عبوری کونسل اس سے پوری طرح آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قذافی کے حامی شہروں سرت اور بنی ولید پر قبضے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اتوار کے روز قومی عبوری کونسل کی طرف سے بنی ولید پر شدید حملہ کیا گیا تھا لیکن سینٹرل کمانڈ اور صفوں میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے فورسز کو ناکام واپس لوٹنا پڑا۔ اسی طرح ہی قذافی کے آبائی شہر سرت میں ہوا ہے۔ لندن میں مقیم وکیل سعد جبار کا کہنا ہے کہ لیبیا کے موجودہ مسائل پر مغرب اور اس کے اتحادیوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ بات یقینی تھی کہ قذافی کی رخصتی کے بعد وہاں حکومت کی تشکیل میں مشکلات سامنے آئیں گی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM