1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں ممکنہ کارروائی میں جرمن دستے شامل نہیں ہوں گے، ویسٹر ویلے

اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا کے خلاف نو فلائی زون کی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد جرمنی کی جانب سے ابتدائی رد عمل سامنے آیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لیبیا کے خلاف کارروائی میں جرمن دستے شریک نہیں ہوں گے۔

default

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے لیبیا کے خلاف نو فلائی زون کے قیام کے بعد دنیا بھر سے مختلف رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نو فلائی زون کے قیام کو نا گزیر قرار دیا۔

چین نے اس قرارداد کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کا کہنا ہے کہ اگر لیبیا کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے توجرمن فوجی اس میں حصہ نہیں لیں گے۔ جرمنی نے سلامتی کونسل میں نو فلائی زون کے لیے ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا، ’’ ہمیں قرارداد کے مسودے کے کچھ حصوں پر اعتراض تھا، جس وجہ سے ہم اس کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتے۔ ہماری نظر میں اس میں خاطر خواہ خطرات موجود ہیں۔ ہم فوجی حل کے حوالے سے نمایاں طور پر خدشات رکھتے ہیں‘‘۔

NO FLASH EU-Parlament tagt zu Libyen

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو خوش آئند قرار دیا ہے

ویسٹر ویلے نے مزید کہا کہ معمر قذافی کو شہریوں کے خلاف ہر طرح کے تشدد کو فوری طور پر روکنا چاہیے، اقتدار سے الگ ہوکر انسانیت کے خلاف کیے جانے والے جرائم کے نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی ویسٹر ویلے نے واضح الفاظ میں کہا کہ جرمن فوج لیبیا کے خلاف کسی عسکری کارروائی میں شامل نہیں ہو گی۔

یورپی یونین نے لیبیا کے خلاف نوفلائی زون کی قرارداد کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس قرارداد پر فوری طور پر عمل شروع کر دینا چاہیے۔ دوسری جانب لیبیا نے اس قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے قومی خود مختاری پر حملے سے تعبیر کیا ہے۔

لیبیا کے نائب وزیر خارجہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ باغیوں سے مذاکرات کرنے اور جنگ بندی پر راضی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا سلامتی کونسل کی قرارد اد پر مثبت انداز میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ ثابت کرے گا وہ شہریوں کی حفاظت کرنے کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM