1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں مسلم انتہا پسندوں کا فوجی اسلحہ خانے پر حملہ

لیبیا میں حکومت مخالف مظاہروں کا مسلم انتہا پسند بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک گروپ نےگزشتہ ہفتے ایک کارروائی میں فوجی گاڑیاں اور ایک تازہ حملے میں بڑی مقدار میں اسلحہ اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔

default

لیبیا میں مسلم انتہا پسندوں نے دیرنا میں واقع ایک فوجی اسلحہ خانے پرحملہ کر کے تقریباً 250 ہتھیار چرا لیے ہیں۔ اس دوران چار فوجی ہلاک ہوئے جبکہ دیگر اہلکاروں سمیت عام شہریوں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے جمعے کے روز اس انتہاپسند گروپ نے ایک کارروائی کرتے ہوئے ایک قریبی بندرگاہ کے علاقے میں کھڑی متعدد فوجی گاڑیاں بھی اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔

Karte Libyen

لیبیا میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مختلف اسلامی گروپوں سے تعلق رکھنے والے 850 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے

لیبیا میں ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دارالحکومت طرابلس سے 13سوکلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس شہر میں ایک جرائم پیشہ گروہ نے اس کارروائی کے دوران چار فوجی اہلکاروں کو ہلاک اور 16کو زخمی کر دیا۔ ذرائع کے مطابق فوج کے ایک کرنل عدنان النٰصری نے ان افراد کی راکٹ لانچر، تین اینٹی ایئرکرافٹ میزائل اور 70 کلاشنکوف چرانے میں مدد کی۔ اس سے قبل جمعے کے روز اسی گروپ نے ایک کارروائی کے دوران دیرنا کی بندرگاہ پرکھڑی 70 فوجی گاڑیاں بھی اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔

تاحال یہ معلوم نہیں ہو پایا کہ یرغمالی بنائے جانے والے شہری کون ہیں اور انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ لیبیا کے وزیر انصاف مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ اغواء کاروں کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ تاہم لیبیا کی سالمیت پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اسلامی امارت البرقعہ Islamic Emirate of Barqa نامی گروپ اس کارروائی کے پیچھے ہے۔ حکام کے مطابق اس گروپ کی باگ ڈور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق ارکان کے ہاتھ میں ہے۔ ان افراد کو حالیہ مہینوں کے دوران رہا کیا گیا تھا۔

Libyen Proteste Demonstration CONTRA Regierung Solidarität in USA

لیبیا میں البیضاء میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں 23 افراد ہلاک ہوئے تھے

مزید یہ کہ گزشتہ ہفتے البیضاء میں دو پولیس اہلکاروں کو پھانسی دینےکے پیچھے بھی اسی گروپ کا ہاتھ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق البیضاء میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق لیبیا میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مختلف اسلامی گروپوں سے تعلق رکھنے والے 850 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ رہا کیے جانے والوں میں ایسے جہادی بھی شامل ہیں، جن کا تعلق عراق اور شمالی افریقہ میں قائم القاعدہ کی شاخوں سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں لیبین اسلامک فائٹنگ گروپ LIFG کے سربراہ عبدالحاکم بلحاج بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس