1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں مخالف گروپوں کے درمیان امن معاہدہ

لیبیا کے حکام نے کہا ہے کہ مختلف فریقین کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی تصدیق دونوں حریف پارلیمانوں نے کر دی ہے۔

معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد گزشتہ کئی برس سے خانہ جنگی اور بے امنی کے شکار ملک شام میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان قائم ہیں، تاہم اگر ان کے درمیان اس معاہدے سے اس شورش زدہ ملک میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق فریقین کے درمیان ڈیڈلاک ختم ہو چکا ہے اور ایک تاریخی معاہدہ طے کر لیا گیا ہے۔

طرابلس میں قائم جنرل نیشنل کانگریس کے نائب سربراہ عود عبدالصادق نے کہا کہ وہ معاہدہ جس کے لیے لیبیا کے عوام، عرب دنیا اورعالمی برادری منتظر تھے، طے کیا جا چکا ہے۔ ان مذاکرات میں طرابلس میں قائم جنرل کانگریس اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے وفود نے حصہ لیا۔

نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد لیبیا میں مخلوط حکومت کے قیام میں مدد کے لیے تیار ہے، تاہم اس جنگ زدہ ملک میں عسکری مداخلت نہیں کی جائے گی۔

اسٹولٹن برگ نے اتوار کے روز کہا کہ اگر لیبیا میں فریقین ملک کر ایک حکومت قائم کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، تو اس سلسلے میں نیٹو ممالک ان کی مدد کے لیے تیار ہوں گے۔ لیبیا کے موضوع پر 13 دسمبر کو اٹلی میں بھی ایک کانفرس کا انعقاد ہو رہا ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں کئی ماہ سے جاری مشکل مذاکرات کے بعد لیبیا کی دونوں حریف حکومتوں کے نمائندے ایک متحدہ حکومت بنانے کے لیے تیار ہو گئے تھے تاہم اس کی حتمی منظوری دونوں پارلیمان اور لیبیائی عوام کو دینا تھی۔

لیبیا سن دو ہزار گیارہ میں معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے افراتفری کا شکار ہے۔ اس ملک میں سن 2014 سے دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ مذہبی گروپوں کی حمایت یافتہ حکومت دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول رکھتی ہے اور وہاں سے اپنی حکومت چلا رہی ہے جب کہ مغرب کی حمایت یافتہ حکومت ملک کے مشرق میں اپنی حکومت قائم کر چکی ہے۔

اکتوبر میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ لیبیا کے لیے خصوصی مندوب بیرنارڈینو لیون، ’’نئی قومی حکومت کی تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بہت زیادہ کام ابھی باقی ہے۔‘‘

لیون کا مزید کہنا تھا کہ نئی قومی حکومت کے وزیراعظم کا نام فائز سراج ہو گا اور ان کا تعلق طرابلس پر کنٹرول رکھنے والی اسلام پسند حکومت سےہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں امید ہے کہ یہ لسٹ کارآمد ثابت ہو گی۔ وزیراعظم کے تین نائب ہوں گے، جو ملک کے مشرقی، مغربی اور جنوبی حصوں کی نمائندگی کریں گے۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ یہ تمام افراد ایک ٹیم کے طور پر کام کریں گے اور اس ٹیم کی تشکیل کوئی آسان کام نہیں تھا۔