1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں لڑائی جاری، روم میں عالمی برداری کی اہم ملاقات

لیبیا میں قذافی کے حامی فوجوں نے باغیوں کے زیر قبضہ مغربی شہر زِنتان پر راکٹوں سے حملے جاری رکھے۔ دوسری طرف بین الاقوامی رابطہ گروپ کے اجلاس کے نتیجے میں باغیوں کو اربوں مالیت کی رقوم ملنے کی امید ہونے لگی ہے۔

default

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے جنوب مغرب کی طرف واقع باغیوں کے زیر قبضہ شہر زِنتان میں قذافی مخالف قوتوں کے ایک ترجمان نے آج کہا کہ اس شہر پر صرف جمعرات کو سرکاری دستوں کی طرف سے قریب 50 راکٹ فائر کیے گئے۔ روسی ساخت کے گراڈ کہلانے والے ان راکٹوں سے زِنتان پر یہ حملہ صبح پانچ بجے سے پہلے شروع کیا گیا اور باغیوں کے ترجمان عبد الرحمان کے مطابق اگلے چند گھنٹوں کے دوران وہاں گرنے والے راکٹوں کی تعداد پچاس کے قریب ہو چکی تھی۔ ترجمان کے مطابق زِنتان کے نواح میں نیٹو کے فضائی حملوں کے نتیجے میں سرکاری فورسز کے دو ہیلی کاپٹر بھی تباہ کر دیے گئے۔

اسی دوران اطالوی دارالحکومت روم میں ہونے والے لیبیا سے متعلق بین الاقوامی رابطہ گروپ کے اجلاس میں قذافی کے مخالف باغیوں کو یہ امید بھی ہوگئی کہ انہیں عنقریب ہی اربوں مالیت کی وہ رقوم دستیاب ہو سکیں گی، جن کی انہیں اشد ضرورت ہے۔

Libyen-Kontaktgruppe in Rom 2011

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اپنے اطالوی ہم منصب فرانکو فراتینی کے ہمراہ

اس اجلاس میں شریک امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ نے اپنے ہاں معمر قذافی اور لیبیا کی ریاست کی ملکیت جو اثاثے منجمد کر رکھے ہیں، ان کی مالیت قریب 30 بلین ڈالر بنتی ہے۔ ہلیری کلنٹن کے بقول صدر باراک اوباما امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں کہ ایک نئی قانون سازی کے ذریعے اربوں مالیت کے لیبیا کے ان اثاثوں کا ایک حصہ قذافی کے مخالف باغیوں کی تحریک کو مہیا کر دیا جائے۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ روم اجلاس کے شرکاء اس بارے میں بھی بحث کر رہے ہیں کہ لیبیا کے باغیوں کی مدد کے لیے ایک باقاعدہ مالیاتی نظام اور امداد کی دوسری صورتیں بھی وضع کر لی جائیں۔

لیبیا رابطہ گروپ کے آج روم میں ہونے والے اجلاس کے میزبان ملک اٹلی کی طرف سے وزیر خارجہ فرانکو فراتینی نے اس اجلاس کے بعد کہا کہ عنقریب ہی ایک ایسا عارضی مالیاتی فنڈ قائم کر دیا جائے گا، جہاں سے مشرقی لیبیا میں باغیوں کی انتظامیہ کو رقوم مہیا ہو سکیں گی۔ لیبیا کے باغیوں نے کل بدھ کے روز یہ کہا تھا کہ ان کے پاس مالی وسائل کی شدید کمی ہے اور معمر قذافی کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھنے کے لیے انہیں فوری طور پر دو بلین سے لے کر تین بلین ڈالر تک کی ضرورت ہے۔

روم میں آج کے مشاورتی اجلاس کے بعد اطالوی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ لیبیا میں باغیوں کی عبوری قومی کونسل کے سربراہ محمود جبریل نے اعلان کیا ہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کی مدد سے اور جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائیں گے۔

لیبیا رابطہ گروپ کے اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور قطر سمیت بیس سے زائد ملکوں کے وزرائے خارجہ شامل ہوئے جبکہ اس مشاورت تک موقع پر عرب لیگ اور افریقی یونین کے نمائندے بھی موجود تھے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM