1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں قیام امن کے لیے ’متحدہ‘ فوج ناگزیر

اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ لیبیا میں ایک ’متحدہ‘ فوج کا قیام عمل میں آ جائے۔ اس شمالی افریقی ملک میں داخلی تقسیم اور جہادی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک منظم سکیورٹی فورس کو وقت کی اہم ترین ضرورت تصور کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ لیبیا میں قیام امن کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ وہاں ملکی فوج کی ایک متحد ادارے کے طور پر تشکیل ممکن ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے تیونس میں اقوام متحدہ کے نمائندے آج اتوار کے دن دوسرے روز بھی ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کریں گے۔

DW.COM

اقوام متحدہ کی کوششوں کے باعث ہی گزشتہ برس لیبیا میں ایک متحدہ حکومت عمل میں آئی تھی لیکن ابھی تک اس حکومت میں شامل مختلف گروہ طاقت کی رسہ کشی میں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب مارٹن کوبلر نے کہا ہے، ’’لیبیا کے تمام نئے مسائل کا تعلق سکیورٹی کے مسئلے سے ہے۔‘‘

اے ایف پی نے ایک عرب ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے کوبلر کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب تک لیبیا میں فوج کا ایک فعال اور مؤثر ادارہ وجود میں نہیں آتا، وہاں کے مسائل کا حل تلاش کرنا بہت مشکل کام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں پائیدار قیام امن کی خاطر سکیورٹی فورسز کی صفوں میں اتحاد ضرروی ہے، ’’ان تازہ مذکرات کا مقصد صدارتی کونسل کی سرپرستی میں فوج کا ایک متحد ملکی ادارہ تشکیل دینا ہے۔‘‘

تیونس میں جاری ان مذاکرات کے پہلے دن کے اختتام پر کوبلر نے کہا، ’’لیبیا اس وقت تک متحد نہیں ہو سکتا، جب تک اس کے بے شمار دشمن فعال رہیں گے۔‘‘ انہوں نے لیبیا میں انسانی حوالے سے پائی جانے والی بحرانی صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ آج دوسرے دن کے مذاکرات میں تمام مندوبین کی کوشش ہو گی کہ وہ ایک متفقہ لائحہ عمل پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے عملی اقدامات کے لیے تیار ہو جائیں۔

لیبیا کی متحدہ قومی حکومت GNA نے تین ماہ قبل دارالحکومت میں اپنا کام شروع کیا تھا لیکن اسے مشرقی لیبیا میں موجود اپنے حریف سیاسی گروہ کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے۔ متنازعہ رہنما جنرل خلیفہ ہفتر مشرقی علاقوں میں ابھی تک اپنی حامی افواج کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔

کوبلر کے مطابق وہ لیبیا میں امن کی خاطر جنرل ہفتر سے ملاقات کے متمنی ہیں لیکن ابھی تک وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ مندوب کوبلر کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ ہفتر سے ملاقات کی درخواست کی ہے، لیکن وہ ہمیشہ ہی انکار کر دیتے ہیں۔

Libyen Regierung Konflikte Martin Kobler

مارٹن کوبلر کے مطابق لیبیا میں پائیدار قیام امن کی خاطر سکیورٹی فورسز کی صفوں میں اتحاد ضرروی ہے

کوبلر نے کہا کہ پیر اور منگل کے دن لیبیا کی صدارتی کونسل ’اہم سکیورٹی گروپوں‘ سے ملے گی تاکہ فوج کی ایک متحد ادارے کے طور پر تشکیل کے حوالے سے مذاکرات کیے جا سکیں۔

یہ امر اہم ہے کہ لیبیا میں ’عرب اسپرنگ‘ اور مقتول آمر معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے یہ ملک شورش کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق وہاں سیاسی خلا کی وجہ سے جہادی گروہ بھی اپنی پوزیشن بہتر بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ کئی ممالک لیبیا میں بحران کو علاقائی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔