1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لیبیا میں فوجی کارروائی پر روسی قیادت میں اختلاف

افریقی ملک لیبیا پر مغربی فضائی حملوں کو روسی وزیر اعظم نے قرون وسطیٰ کے صلیبی جنگوں کے عہد سے تعبیر کیا ہے جبکہ صدر میدویدیف نے اس مثال کو ناقابل قبول قراردے کر اندرونی اختلاف کو عام کردیا ہے۔

default

روسی وزیراعظم ولادمیر پوٹین کو اپنے ملک کے اندر انتہائی طاقتور شخصیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ صدارتی الیکشن کے وقت میدویدیف کے چناؤ میں پوٹین کا کردار بھی اہم تھا۔ اب سن 2012 کے صدارتی الیکشن سے قبل روسی صدر اور وزیر اعظم کے درمیان ممکنہ اختلافات کو محسوس کیا جانے لگا ہے۔

وزیراعظم پوٹین نے میزائل بنانے کی ایک فیکٹری کے دورے پر ورکروں سے بات چیت کرتے ہوئے لیبیا میں اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل کی جانب سے فضائی کارروائی کی اجازت کو قرون وسطیٰ کے صلیبی جنگی دور سے تعبیرکیا ہے۔ ان کے بیان کے ملکی میڈیا پر نشر ہونے کےتھوڑی دیر بعد میڈیا پر صدر میدویدیف کا بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے سلامتی کونسل کی اجازت کو کروسیڈز کی مانند قراردینے کو ناقابلِ قبول قراردیا اور کہا کہ اس سے تشدد کو مزید ہوا مل سکتی ہے۔ روسی صدر نے اپنے بیان میں وزیر اعظم کا حوالہ نہیں دیا۔ یہ امر اہم ہے کہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے امریکی قیادت میں برطانوی اور فرانسیسی فوجوں کے اتحاد کو کروسیڈرز کا اتحاد قرار دیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ روسی صدر کا اس انداز میں اپنے سیاسی اتالیق کے بیان پر نکتہ چینی کرنا، اندرون خانہ اختلافات کا عندیہ دیتے ہیں اور یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگلے الیکشن سے قبل دونوں بڑے لیڈروں میں ڈھکا چھپا اختلاف سامنے آ سکتا ہے۔

Dmitri Medwedew bei Gespräch mit Wladimir Putin zu Georgien Südossetien

روسی صدر اور وزیر اعظم

روسی وزیر اعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر میدویدیف کا کہنا تھا کہ محتاط تجزیے کی ضرورت ہے اور یہ کسی طور قابل قبول نہیں کہ ایسے الفاظ کا استعمال کیا جائے جو تہذیبوں میں مزید تصادم کا باعث ہو۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کروسیڈز کے استعارے کا بھی حوالہ دیا۔ روسی صدر نے ماسکو میں لیبیا پر اپنے خیالات کا اظہار خاص طور پر فوری طلب کی گئی پریس بریفنگ میں کیا۔ روسی صدر کے بیان کے بعد وزیر اعظم کے کروسیڈز والے بیان کو نشر کرنا بند کردیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس بیان سے میدویدیف نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا جس کے تحت روسی سفیر سکیورٹی کونسل کے اس اجلاس میں شریک نہیں ہوا تھا جس میں گزشتہ جمعرات کو لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لیبیا کے معاملے پر ان بیانات سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ روس کے چوٹی کے لیڈروں کے درمیان کسی ایک پالیسی کے بنیادی نکتہ نظر پر اختلاف موجود ہے۔ اس مناسبت سے بین الاقوامی امور کے روسی جریدے ‘‘رشیہ’’ کے چیف ایڈیٹر Fyodor Lukyanov کا بھی خیال ہے کہ پہلے وہ اختلافات کی تمام افواہوں کو یکسر نظر انداز کردیتے تھے لیکن لیبیا کے معاملے پر دونوں لیڈروں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے سے ان کے اندرونی اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس