1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں عراق جیسی غلطی نہ دہرائی جائے، اطالوی وزیر خارجہ

باغیوں نے دعوی کیا ہے کہ بنی ولید میں قذافی کے حامیوں کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف اطالوی وزیر خارجہ نے عالمی برادری اور لیبیا کی نئی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ لیبیا میں عراق جیسی ’بڑی غلطی‘ سے بچا جائے۔

default

باغیوں نے دعوی کیا ہے کہ قذافی کے اہم شہر بنی ولید میں موجود قذافی کے حامیوں کے ساتھ ان کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور وہ آج بغیر کسی خون خرابے کے وہاں کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے کہا ہے کہ ان کے سپاہی آج بغیر کسی مزاحمت کا سامنا کیے قذافی کے حامیوں کے اہم شہر بنی ولید کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ باغیوں کے کمانڈر محمود عبدالعزیز نے خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ سب کچھ گزشتہ روز طے پا گیا تھا اور قذافی کے حامیوں نے مزید کچھ گھنٹوں کی مہلت مانگی تھی۔ انہوں نے کہا بنی ولید میں شاید 100 مسلح جنگجو موجود ہیں۔

اسی طرح سرت اور صبا نامی شہروں کے محاذوں پر موجود باغیوں نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے دونوں شہروں کو محاصرہ کر لیا ہے اور انہیں جیسے ہی حکم ملے گا وہ پیشقدمی شروع کر دیں گے۔ صحارا صحرا کے اس محاذ پر تعینات ایک باغی کمانڈر سلیمان نے بتایا ہے کہ قذافی کے حامی جنگجوؤں کے پاس فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

Franco Frattini

اطالوی وزیر خارجہ فرانکو فراتینی

دوسری طرف اتوار کے دن اطالوی وزیر خارجہ فرانکو فراتینی نے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک مستحکم لیبیا کو ممکن بنانے کے لیے وہاں کی نئی حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرے تاکہ لیبیا کی نئی حکومت کو انتہا پسندوں کے ممکنہ حملوں سے بچایا جا سکے۔

فرانکو فراتینی نے لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے رہنماؤں مصطفیٰ عبدالجیل اور محمود جبریل پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا کی نئی قیادت عوام کی ترقی کے لیے کام کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا دونوں رہنماؤں نے قذافی کی حمایت کافی عرصہ پہلے چھوڑ دی تھی، اس لیے ان کی نیت پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تاہم فراتینی نے کہا کہ لیبیا میں معمر القذافی کو طاقت سے الگ کرنے کے بعد وہاں ویسی غلطی سے بچنا چاہیے جیسا کہ عراق میں صدام حسین کو اقتدار سے الگ کرنے کے بعد کی گئی تھی۔ سن 2003ء میں صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد امریکی پالیسی کے مطابق صدام حسین کی سیاسی پارٹی کے تمام اہلکاروں کو عملی طور پر مرکزی سیاسی دھارے سے  الگ کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عراقی فوج کی اعلیٰ قیادت کو بھی تحلیل کر دیا گیا تھا ، جس کے نتیجے میں عراقی باشندوں کی ایک بڑی تعداد بے یارومددگار ہو گئی تھی اور وہاں مقامی مسلح گروہوں نے طاقت حاصل کرنے کے لیے لڑائی شروع کر دی تھی۔

اطالوی وزیرخارجہ نے عراق کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں بحالی اور تعمیر نو کے دوران یہ اہم ہو گا کہ عالمی برادری وہاں کی نئی حکومتی انتظامیہ کو اس طرح اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دے کہ وہاں شر پسند عناصر کو پنپنے کا کوئی موقع نہ ملے۔

NO FLASH Mahmoud Jibril

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے ایک اہم رہنما محمود جبریل

دوسری طرف ہیومن رائٹس واچ نے اتوار کے دن ہی جاری کیے گئے اپنے بیان میں لیبیا کی نئی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ افریقی تارکین وطن اور وہاں کے مقامی سیاہ فام باشندوں کی گرفتاریوں کے عمل کو روک دے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران باغیوں نے طرابلس اور اس کے نواح سے ایسے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے عارضی جیل خانوں میں ڈال دیا، جن پر الزام عائد کیا جاتا ہےکہ وہ کرائے کے گوریلے ہیں اور قذافی نے لڑائی کے لیے خصوصی طور پر چاڈ، سوڈان، نائجر اور مالی جیسے ممالک سے بلوائے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ باغیوں کے خلاف مسلح لڑائی کے لیے قذافی نے کئی افریقی ممالک سے کرائے کے جنگجو بلوائے تھے تاہم باغیوں کی زیر حراست کئی افراد نے انکار کیا ہے کہ وہ قذافی کے لیے لڑ رہے تھے۔ ان کے بقول انہیں صرف ان کی رنگت اور نسل کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس