1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں خانہ جنگی کے خاتمے اور جمہوری دور کے آغاز کا اعلان

لیبیا میں عبوری حکومت کے تحت آج سابق حکمران معمر قذافی کے خلاف جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور نئے جمہوری دور کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کیا جا رہا ہے۔

default

لیبیا میں قذافی کے خلاف بغاوت کا آغاز کرنے والے اولین شہر بن غازی میں ہزاروں افراد جمع ہورہے ہیں۔ اس اجتماع سے عبوری حکومت کے رہنما مصطفیٰ عبد الجلیل اپنے خطاب کے دوران ’لیبیا کی آزادی‘ کا اعلان کریں گے۔ اگرچہ لیبیا تیل و گیس جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر ایسے خدشات موجود ہیں کہ قبائلی اور علاقائی اختلافات اس کے درخشاں مستقل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

عبوری حکومت کے وزیر اعظم محمود جبریل نے گزشتہ روز اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کی نئی قیادت کے پاس اختلافات کو بالائے طاق رکھنے کے ’انتہائی محدود امکانات‘ ہیں۔

ان کے بقول مستقل کا دارومدار بہت بڑی حد تک عبوری حکومت کی قیادت اور جنگ زدہ ملک کی قریب ساٹھ لاکھ آبادی پر منحصر ہے، ’اولین یہ دیکھنا ہوگا کہ عبوری حکومت کی جانب سے کس قسم کے عزائم کا اظہار کیا جاتا ہے، دوسری جانب لیبیا کی عوام پر منحصر ہے کہ آیا وہ ماضی اور مستقبل میں فرق محسوس کرتے ہیں یا نہیں؟‘ محمود جبریل نے اس امید کا اظہار کیا کہ لیبیا کی عوام قذافی کے 42 سالہ اقتدار کے مظالم کو یاد رکھیں گے اور مستقبل کے لیے پر امید رہیں گے۔

قذافی کی فوج کے خلاف لڑنے والی غیر منظم ملیشیا اب بھی مسلح ہے اور مختلف علاقوں میں انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں امکان غالب ہے کہ نئے نظام مملکت میں وہ اپنے زیر اثر علاقوں بالخصوص مصراتہ اور بن غازی کے لیے ماضی کے مقابلے میں زیادہ اختیارات کا مطالبہ کریں گے۔ قذافی کو ان کے آبائی شہر سِرت میں ہلاک کرنے والے جنگجوؤں کا تعلق بھی مصراتہ ہی سے ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے عبوری حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بعض شہروں میں فوج کے اندر بھی محاذ آرائیاں ہونے لگی ہیں۔

دوسری طرف قذافی کی تدفین کا معاملہ بھی تاحال حل نہیں ہوا۔ عبوری حکومت کی جانب سے قذافی کی اسلامی طریقہء کار کے تحت تدفین کی بات کی جارہی ہے جبکہ قذافی کے بچ جانے والے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ قذافی کے جسد کو سِرت میں ان کے قبیلے کے حوالے کیا جائے۔ مصراتہ میں قذافی کے مخالفین ان کی تدفین نہیں چاہتے جبکہ دیگر کو خدشہ ہے کہ قذافی کے حامی ان کا مقبرہ تیار کریں گے اسی لیے خفیہ تدفین کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM