1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں بیالیس برس بعد پہلا جشنِ آزادی

لیبیا میں چار دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ ساٹھواں یومِ آزادی منایا گیا ہے۔ اس کے سابق رہنما معمر قذافی کے دورِ اقتدار میں یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد بند کر دیا گیا تھا۔

default

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل

لیبیا میں ہفتے کو اٹلی اور فرانس سے آزادی کا ساٹھواں جشن منایا گیا ہے۔ سابق رہنما معمر قذافی نے اس دِن کے بجائے 1969ء میں اپنی حکومت قائم ہونے کا سالانہ جشن منانے کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی۔

لیبیا کے وزیر اعظم عبدالرحیم الکیب نے طرابلس میں آزادی کی باقاعدہ تقریب سے خطاب میں کہا: ’’آج ہم لیبیا کی تعمیر کا عمل شروع کرنے جا رہے ہیں، جیسے ہمارے اجداد نے کیا ہوتا۔ ہم اپنے بیٹوں سے کہتے ہیں کہ تباہی کے بعد لیبیا کی تعمیر شروع کریں۔‘‘

اس موقع پر ملک بھر سے ہزاروں افراد نے دارالحکومت طرابلس کا رُخ کیا۔ جشن کے لیے ساحل پر کھانے کی میزیں لگائی گئی تھی، جو سات کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عشائیہ منسوخ کر دیا گیا۔

طرابلس میں قومی عبوری کونسل (این ٹی سی) کے صدر دفاتر پر وزراء یوم آزادی کے کیک سے لطف اندوز ہوئے۔ ان کے ساتھ صحافی بھی شریک تھے۔ تاہم اس موقع پر معزول شاہ ادریس کے خاندان کا کوئی فرد لیبیا میں موجود نہیں تھا، جنہیں انیس سو انہتر میں معمر قذافی کے اقتدار میں آنے کے بعد جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی۔ ادریس انیس سو تراسی میں قاہرہ میں انتقال کر گئے تھے۔

Flash-Galerie Bildergalerie Gesichter des Jahres 2011 International Jahresrückblick

لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی

لیبیا پر کئی دہائیوں تک مختلف ملکوں کا قبضہ رہا۔ تاہم انیس سو سینتالیس میں فرانس اور اٹلی نے اپنے قبضے میں موجود اس کے علاقے چھوڑ دیے تھے، جس کے بعد انیس سو اکاون کے اواخر میں  اقوام متحدہ کی حمایت سے شاہ ادریس کی سربراہی میں یونائیٹڈ لیبیا کنگڈم وجود میں آئی تھی۔ 

طرابلس میں ہفتے کی تقریب سے خطاب میں این ٹی سی کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے شاہ ادریس کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ آزادی برقرار رکھنا اسے حاصل کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔

دوسری جانب اسی روز لیبیا کے وزیر اقتصادیات طاہر شرکس مستعفی ہوگئے۔ وزیر اعظم عبدالرحیم الکیب نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے بیماری کی بناء پر استعفیٰ دیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس