1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں باغیوں کے زیر قبضہ فوجی اڈے پر ناکام فضائی حملہ

لیبیا کے مشرقی شہر اجدابیہ میں جمعہ کو باغیوں کے زیر قبضہ ایک فوجی اڈے پر ایک جنگی طیارے سے بمباری کی کوشش کی گئی لیکن اس حملے میں پائلٹ اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

default

لیبیا میں قذافی انتظامیہ کے جنگی طیاروں نے ملک کے مشرق میں کئی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی

لیبیا میں موجودہ بد امنی سے پہلے گولہ بارود کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے والا یہ فوجی اڈہ معمر قذافی کی زیر کمان فوج کے کنٹرول میں تھا۔ اب لیکن اس فوجی اڈے پر قذافی کے مخالف باغیوں کا قبضہ ہے۔ جمعہ کے روز اجدابیہ میں ملکی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کے ذریعے اس فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم گرائے جانے والے بم اس اڈے کی حدود کے عین باہر گرے۔

اس فوجی اڈے میں ذخیرہ کردہ گولہ بارود کی حفاظت کرنے والے حسن فراج نامی حکومت مخالف باغی نے کہا کہ اس اڈے کو تباہ کرنے کے لیے گرائے جانے والے بم اس ملٹری بیس کی بیرونی دیواروں کے قریب گرے۔ معمر قذافی کی حامی ملکی فضائیہ نے اس اڈے کو اسی ہفتے چند روز پہلے بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم تب بھی ہنیہ بیس پر اور اس کے ارد گرد گرائے جانے والے بموں سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا۔

Libyen Aufstände Proteste

مظاہرین پر قاتلانہ حملے کیے جا رہے ہیں

لیبیا میں اس فوجی اڈے میں کُل پینتیس بنکر ہیں اور وہاں اتنا زیادہ گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا ہے کہ صرف ایک بنکر میں موجود ایمیونیشن قریب دس ہزار ٹن بنتا پے۔ لیبیا میں قذافی انتظامیہ کے جنگی طیاروں نے کل جمعرات کو بھی ملک کے مشرق میں کئی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ بریگہ نامی شہر پر بدھ کے روز حکومت کے حامی فوجی دستوں نے کچھ دیر کے لیے کئی آئل ریفائنریوں پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔ تاہم تھوڑی ہی دیر بعد باغیوں نے ان دستوں کو وہاں سے پسپائی پر مجبور کر کے یہ قبضہ ختم کرا لیا تھا۔

اجدابیہ میں باغیوں کے ایک مقامی رہنما عزیز صالح نے آج جمعے کو بتایا کہ جنگی طیاروں کی مدد سے اس فوجی اڈے پر دو راکٹ فائر کیے گئے، جو دونوں ہی اپنے نشانے پر نہیں لگے تھے۔ ان باغیوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی جنگی طیاروں سے فائر کیے گئے راکٹ اس فوجی اڈے پر گرتے تو وہاں بے تحاشا تباہی ہوتی اور دھماکوں کی آوازیں کئی میل دور تک سنائی دیتیں۔

NO FLASH Libyen Bengasi Protest Gaddafi

لیبیا میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں

لیبیا میں سابق وزیر انصاف مصطفیٰ عبدالجلیل کے ایک سابقہ قریبی ساتھی احمد جبریل بن غازی میں قائم باغیوں کی کونسل کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور نو فلائی زون کے قیام کے لیے اب لیبیا میں ایسے فضائی حملوں کی ضرورت ہے، جن کی مدد سے عام شہریوں پر خونریز فضائی حملوں کا سلسلہ بند کرایا جا سکے۔

باغیوں کی اس کونسل کا دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ کو اب لیبیا میں جلد از جلد ایک نو فلائی زون قائم کرنا چاہئے تاکہ عام شہریوں پر قذفی کے حامی جنگی طیاروں کے حملوں میں جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ اسی دورن امریکہ میں محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ قذافی کے حامی جنگی طیارے مختلف علاقوں میں بمباری کر رہے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ بات غیر واضح ہے کہ اس بمباری سے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لیبیا میں نو فلائی زون کے قیام کے مطالبوں کے حوالے سے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے جمعرات کو کہا تھا کہ اصولی طور پر لیبیا میں نوفلائی زون کے قیام کی کوششیں ایک ایسی فضائی کارروائی سے شروع ہو سکتی ہیں، جس کے ذریعے اس ملک کے فضائی دفاع کے نظام کو تباہ کر دیا جائے۔

رابرٹ گیٹس اور دیگر امریکی حکام نے تاہم ایسی انتظامی اور سفارتی مشکلات کی ایک باقاعدہ فہرست بھی گنوائی ہے، جو ایسے کسی اقدام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس